- فتوی نمبر: 34-363
- تاریخ: 09 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > اخلاق و آداب
استفتاء
کیا وضو کرنے والے کو ادعیہ پڑھنے کی وجہ سے سلام کرنا مکروہ نہیں ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جو شخص بالفعل ذکر میں یا دعاؤں کے پڑھنے میں مشغول ہو اسے سلام کرنا مکروہ ہے۔ دوران وضو اعضاء کو دھوتے ہوئے چونکہ بعض دعاؤں کا پڑھنا مسنون ہے لہذا جس وقت وضو کرنے والے شخص کے بارے میں معلوم ہو یا غالب گمان ہو کہ وہ دعاؤں کے پڑھنے میں مشغول ہے اسے سلام کرنا مکروہ ہے اور جس کے بارے میں معلوم ہو یا غالب گمان ہو کہ وہ دعاؤں کے پڑھنے میں مشغول نہیں مثلا وہ بات چیت کر رہا ہو تو ایسے وضو کرنے والے شخص کو سلام کرنا جائز ہے مکروہ نہیں ہے۔
شامی (2/451) میں ہے:
مطلب المواضع التي يكره فيها السلام سلامك مكروه على من ستسمع ومن بعد ما أبدي يسن ويشرع ،مصل وتال ذاكر ومحدث ، خطيب
(قوله ذاكر) فسره بعضهم بالواعظ لأنه يذكر الله تعالى ويذكر الناس به؛ والظاهر أنه أعم، فيكره السلام على مشتغل بذكر الله تعالى بأي وجه كان
فتاوی محمودیہ (19/75) ميں ہے:
وضو کرنے والے کو سلام کرنا درست ہے جبکہ وہ دعا نہ پڑھ رہا ہو ورنہ مکروہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved