• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زبان سے الفاظ کہے بغیر صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے قسم  کاحکم؟

استفتاء

میں ایک اکیڈمی میں  پڑھتا تھا وہاں پر سر(استاد)  کو ایک لڑکے سے متعلق غلط فہمی تھی انہوں نے اس کو اکیڈمی سے نکال دیا تو انہوں نے ہم سے حلف لیا  مطلب قسم کہلوائی کہ اس کے ساتھ مل کر آپ نے سٹڈی (پڑھائی ) نہیں کرنی جبکہ ہم مجبور تھے ہمیں پتہ تھاکہ سر(استاد)  کو غلط فہمی ہے ہم نے مجبوری سے قسم کھالی ، دل سے نہیں  ، تو کیا ہوسکتا ہے؟ آپ بتادیں!

وضاحت مطلوب ہے:قسم کھاتے وقت کیا الفاظ استعمال کیے گئے تھے؟

جواب وضاحت:زبان سے قسم کے الفاظ نہیں بولے  صرف اپنے سر (استاد)  کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا انہوں نے کہا تھا کہ جو اس بات پر  راضی ہے  وہ میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دے ،تو میں نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا کہ اس لڑکےکے ساتھ پڑھائی وغیرہ نہیں کریں گے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ زبان  قسم کے الفاظ نہیں  بولے اس لیے محض ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر عہد کرنے سے قسم نہیں ہوئی۔

رد المحتار (14/ 122) میں ہے:

الأيمان مبنية على الألفاظ لا على الأغراض ( قوله الأيمان مبنية على الألفاظ إلخ )

بحر الرائق  (9/ 297) میں ہے:

وركنها(الايمان)اللفظ المستعمل فيها.

مسائل بہشتی زیور(2/157)میں ہے:

اگر کلام مجید کو ہاتھ میں لے کر اس پر ہاتھ رکھ کر کوئی  بات کہی لیکن قسم نہیں کھائی تو قسم نہیں ہوئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved