• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زکوٰۃ اور صدقہ فطر سے متعلق سوالات

استفتاء

1۔زکوٰۃ اور فطرانہ میں کیا فرق ہے؟

2۔ جس طرح فطرانہ نماز  عید سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے کیا زکوٰۃ بھی ماہ رمضان میں ادا کرنا ضروری ہے؟

3۔زکوٰۃ اور فطرانہ کن صاحبان کو دینا لازم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔جو شخص یکم شوال کی صبح صادق کے وقت دنیا میں موجود ہو اور وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی  مالیت کے بقدر کسی بھی ایسی چیز کا مالک ہو جو اس کی  حاجات اصلیہ سے زائد ہو اور اگر وہ مقروض ہو تو  وہ چیز  قرضے  سے زائد ہو تو اس پر اپنی اور اپنی غیر صاحب نصاب  نابالغ اولاد کی طرف سے فی شخص پونے  دو کلو گندم یا اس کی قیمت کسی مستحق زکوۃ شخص کو دینا واجب ہے اسے صدقہ فطر یا فطرانہ کہتے ہیں اور جس شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر مال تجارت ہو یا روپیہ پیسہ ہو یا سونا چاندی ،مال  تجارت اور  روپیہ پیسہ میں سے کوئی بھی دو چیزیں یا دو سے زائد مل ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہوں  تو اس شخص پر سال بعد اپنے ان اموال  کا اڑھائی فیصد کسی مستحق زکوۃ کو دینا واجب ہے اس اڑھائی فیصد کو  زکوۃ کہتے ہیں اس کی کچھ مزید بھی شرطیں ہیں جو موقع پر معلوم کی جا سکتی ہیں یا ان کے لیے مسائل  بہشتی زیور کے متعلقہ حصہ کا مطالعہ کرلیں۔

2۔ماہ رمضان میں زکوۃ ادا کرنا ضروری نہیں ہے ۔

3۔جن صاحبان کی ملکیت میں حاجت اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر کوئی چیز نہ ہو اور وہ مسلمان ہو اور سید یا ہاشمی نہ ہو ان کو دینا لازم ہے۔ نیز ماں باپ اپنی اولاد کو اور اولاد اپنے ماں باپ کو اور اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوۃ اور  فطرانہ نہیں دے سکتے۔

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(ص:719) میں ہے:

‌‌باب صدقة الفطر

تجب على حر مسلم مكلف مالك لنصاب أو قيمته وإن لم يحل عليه الحول عند طلوع فجر يوم الفطر ولم يكن للتجارة فارغ عن الدين وحاجته الأصلية وحوائج عياله والمعتبر فيها الكفاية لا التقدير وهي مسكنه وأثاثه وثيابه وفرسه وسلاحه وعبيده للخدمة فيخرجها عن نفسه وأولاده الصغار الفقراء………… ‌وهي ‌نصف ‌صاع من بر ……….  ويجوز دفع القيمة وهي أفضل عند وجدان ما يحتاجه لأنها أسرع لقضاء حاجة الفقير وإن كان زمن شدة فالحنطة والشعير وما يؤكل أفضل من الدراهم ووقت الوجوب عند طلوع فجر يوم الفطر فمن مات أو افتقر قبله أو أسلم أو اغتنى أو ولد بعده لا تلزمه.

الاختیار لتعلیل المختار (ص:124) میں ہے:

‌‌باب صدقة الفطر وهي ‌واجبة ‌على ‌الحر ‌المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية، عن نفسه وأولاده الصغار……….. وهي نصف صاع من بر أو دقيقه، أو صاع من شعير أو دقيقه أو تمر أو زبيب أو قيمة ذلك.

ہندیہ(1/ 175) ميں  ہے:

“(ومنها حولان الحول على المال) العبرة في الزكاة للحول القمري كذا في القنية، وإذا كان النصاب كاملا في طرفي الحول فنقصانه فيما بين ذلك لا يسقط الزكاة كذا في الهداية. ..إلخ”

ہندیہ (1/189) میں ہے:

“ولايدفع إلى امرأته للاشتراك في المنافع عادة، ولاتدفع المرأة إلى زوجها عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالى -، كذا في الهداية.

ہندیہ(1/ 188) ميں  ہے:

ولايدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي”.

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(ص:719) میں ہے:

“‌‌باب المصرف

هو الفقير وهو: ‌من ‌يملك ‌مالا يبلغ نصابا ولا قيمته من أي مال كان ولو صحيحا مكتسبا.

ہندیہ (1/187) میں ہے:

ويجوز دفعها الى من يملك اقل من النصاب وان كان صحيحا مكتسبا كذا فى الزاهدى.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved