- فتوی نمبر: 34-300
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > ہبہ و ہدیہ
استفتاء
میرا نام زید ہے، میں پنچائیت کا ممبر ہوں۔ مجھے ایک مسئلہ میں شرعی رہنمائی چاہیے تاکہ ہم سب کا بھلا ہو۔ مسئلہ کچھ اس طرح ہے کہ زید کو اپنے والد کی وراثت سے کچھ زمین ملی ، زید کا کہنا ہے کہ میرا ایک عزیز خالد مجھے کہتا ہے کہ جو زمین تجھے ( زید کو) وراثت میں ملی ہے اس میں تھوڑی سی زمین فالتو ہے تمہارے والد صاحب نے اپنی زندگی میں مجھے کہا تھا کہ یہ جو تھوڑی سی زمین فالتو ہے یہ میں تمہیں (خالد کو) دوں گا۔ اب اس کے لیے وہ کہتا ہے کہ میں قرآن اٹھانے کو تیار ہوں کیونکہ بات یہ صرف میرے اور بکر ( میرے والد) کے بیچ ہوئی تھی اور اس کا کوئی اور گواہ نہیں ہے۔ میں نے باقی ورثاء سے بھی پوچھا لیکن کسی کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جب کہ میرے والد صاحب گھر میں ساری باتیں کرتے بھی تھے اور بتا بھی دیتے تھے اور یہ تو بہت اہم بات ہے اور ڈائری میں لکھتے بھی تھے ۔
میں اس سلسلے میں کیا کروں؟ کیونکہ میرے پاس شرعی وراثت کا مسئلہ آیا ہے اور میں چاہ رہا ہوں کہ جو بھی شریعت اس معاملے میں کہتی ہے میں اس پر عمل کروں تو میرے سوال درج ذیل ہیں:
1۔ خالد کا کہنا کہ زید کے والد صاحب نے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ میں تمہیں ( خالد کو) زمین دوں گا اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
2۔جیسے ہمارے ہاں پنچائیت میں لوگ قرآن اٹھاتے ہیں تو اب خالد کہتا ہے کہ میں قرآن اٹھاتا ہوں کیونکہ گواہ تو کوئی نہیں تھا تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
3۔اگر زمین فالتو ہوئی جس کا مجھے کچھ نہیں پتہ کیونکہ میں یہاں پر نہیں تھا تو وہ میں کس کو دوں ؟ جو بھی اس کا حقدار ہے اس کو یا حقدار اگر نہیں ہے تو اللہ واسطے کسی کو دے دوں یا خالد کو دوں ؟
یہ تین میرے بنیادی سوال ہیں اس کے بارے میں مجھے رہنمائی چاہیے تاکہ میں ایک ایسا بہتر فیصلہ کر سکوں جس میں سب کا بھلا ہو اور میں شریعت کے مطابق فیصلہ کر سکوں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ اگر خالد کی بات درست مان بھی لی جائے تو یہ صرف وعدہ ہے جس کا تعلق مرحوم بکر سے تھا ان کے بعد ان کے ورثاء اس وعدے کے پابند نہیں ہیں لہذا زید فالتو زمین خالد کو دینے کے پابند نہیں ۔
2۔ قرآن اٹھانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر بکر کا مذکورہ وعدہ ثابت بھی ہو جائے تب بھی وہ زمین خالد کی نہیں ہوگی۔
3۔ اگر زید کو وراثت میں اپنے حصہ سے زائد زمین ملی ہے تو زید کے والد کے تمام ورثاءاس فالتو زمین کے حقدار ہیں لہذا یہ زمین تمام ورثاء میں ان کے حصوں کے حساب سے تقسیم ہوگی تا ہم فالتو زمین میں سے تمام ورثاء یا بعض ورثاء اپنا حصہ خالد کو دینا چاہیں تو وہ اپنی صوابدید کے مطابق دے سکتے ہیں۔
شامی (8/ 569 ) میں ہے:
و ركنها الإيجاب و القبول
(شامى: 8/ 570 )میں ہے:
و تصح بإيجاب كوهبت و نحلت
ہندیہ (4/ 374) میں ہے:
منها أن يكون الموهوب مقبوضاً حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض
ہندیہ (6/109) میں ہے :
ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة كذافي التبيین ولا تجوز بمازاد على الثلث إلا أن یجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ……..ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة ولو أوصى لوارثه ولأجنبى صح فى حصة الأجنبى ويتوقف فى حصة الوارث على اجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved