• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

زوجین کا ایک صف میں الگ الگ نمازپڑھنے کا حکم

استفتاء

(1)زوجین  ایک صف میں اپنے اپنے مصلی (جائےنماز) پر نماز پڑھ سکتے ہیں ؟

(2)ہماری گلی میں اکثر  گٹروں کا گندہ پانی  کھڑارہتا ہے  میرےشوہر گھر پر ہی نماز  پڑھ لیتے ہیں مسجد جانا مشکل ہوتاہے  کپڑے گندے ہوجاتے ہیں  اس صورت میں گھر میں نماز پڑھنادرست ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)     عورت کو  انفرادی نماز میں  بھی مرد کے برابر نہیں  کھڑا ہوناچاہیئے البتہ اگر درمیان میں ایک اور آدمی کے کھڑے ہونے کے  بقدر  فاصلہ ہوتو پھردرست ہے ۔

(2)   مرد کو معمولی عذر کی وجہ سے مسجد چھوڑ کر گھر میں نماز پڑھناجائزنہیں مذکورہ صورت میں جوعذر بیان کیاگیاہےیعنی گلی میں گٹر کا پانی  یہ ایساعذر نہیں کہ جس کی وجہ سے مسجدجانا  چھوڑ دیا جائے۔

الدرالمحتار(2/383) میں ہے:

فمحاذاةالمصلية لمصل في صلاتها مكروهة لامفسد

الدرالمحتار(2/380) میں ہے :

(ولاحائل بينهما )أقله قدرزراع في غلظ أصبع،اوفرجة تسع رجلا

سنن ابی داؤد(1/151) میں ہے:

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من سمع المنادي فلم يمنعه من اتباعه، عذر»، قالوا: وما العذر؟، قال: «خوف أو مرض، لم تقبل منه الصلاة التي صلى»۔

ترجمہ:حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مؤذن کی آواز سنے اور کسی عذر کے نہ ہونے کے باوجود مسجد کو  نہ جائے (بلکہ گھر میں ہی نماز پڑھ لے)  تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔صحابہ رضی اللہ عنهم نے پوچھا: عذر سےکیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: خوف (یعنی دشمن کا) یا مرض۔

مسائل بہشتی زیور(1/221) میں ہے:

درمیان میں کچھ حائل نہ ہو۔پس اگر کوئی پردہ درمیان میں حائل ہویابیچ میں اتنی جگہ  چھوٹی ہوجس میں ایک آدمی بے  تکلف کھڑاہوسکے تو بھی نمازفاسد نہ ہوگی ۔

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved