• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ذہنی مریض والد کو پیسے دینا

استفتاء

میرے والد جوانی میں ایک قتل کرچکے ہیں۔ 15 سال پہلے اپنی زرعی زمین بیچ کر 20 لاکھ روپے داماد کے پمپ جو کہ 15 سال پہلے ایک کروڑ 20 لاکھ میں خریدا گیامیں 6/ 1 کے مالک بنے۔ 10سال پہلے اپنی آخری بیٹی کی شادی کے بعد گھریلو کام کے لیے بچیاں رکھنی شروع کر دیں اور ان  پر بُری  نظر رکھنی شروع کردی۔ 7 سال پہلے صادق آباد میں بچی ( ملازمہ ) کے ساتھ غلط کام کیا۔ اس نے جاکر اہل محلہ کو بتایا۔ بات تھانے تک پہنچی۔ داماد نے معاملہ رفع دفع کروایا۔

اس سارے عرصے میں والدہ  بہت پریشان ہوئیں۔ بار بار فون پر روتی تھیں تو باجی ( مسز نسیم ) نے والدین کو یہاں بلوایا، کہ والد صاحب بیٹیوں کے قریب ہونے کی وجہ سے شرم کریں گے اور سب کچھ چھوڑ دیں گے، مگر لاہور آکرآٹھ کرائے کے مکان بدلے ، سات سالوں میں۔ ہر مالک مکان اور ہمسائے نے توبہ کی۔ یہاں تک کہ کام والیوں نے گلی  میں کھڑا کرکے مارا مگر والد صاحب باز نہ آئے۔اب وہ اس قابل نہیں کہ بیٹیوں کے ساتھ رہیں، نواسیوں اور کام والیوں کے سلسلے میں وہ قابل اعتبار بالکل نہیں کہ ان کو گھر میں رکھا جاسکے۔ پچھلے سات سالوں سے اپنا حصہ پمپ کا بیچنے پر مجبور کرتے رہے ، روتے پیٹتے کبھی بیٹیوں  اور کام والیوں کو تھپڑ مارتے تاکہ یہ لوگ تنگ آکر حصہ بیچ کر پیسے میرے ہاتھ میں دے دیں۔ باجی نے ان کے مجبور اور تنگ کرنے پر چار ماہ پہلے 6/1 حصے کا نصف 43 لاکھ روپے والد صاحب کو دے  دیئے۔

والد صاحب شروع دن ہی سے دکانداروں، راہگیروں، کام والیوں پراپرٹی ڈیلروں کو بتاتے رہے کہ میرے پاس اتنے لاکھ روپے ہیں ۔ میرا سی این جی میں اتنا حصہ ہے تاکہ لوگ لالچ میں آکر  کہ یہ تو بہت دولتمند ہے اپنی بچیاں کام کے لیے بھیجیں۔ اب تک ہم نے نجانے کتنی بچیوں کو والد صاحب سے لڑ جھگڑ کر بچایا ہے۔ والد صاحب نے 20 لاکھ روووپے تین دن پہلے نکلوائے گھر لاکر  رکھے باہر جاکر ہر کسی کو بتایا کہ میرے پاس اتنے پیسے ہیں تو ڈاکو اگلے ہی دن آکر وہ 20 لاکھ روپے لے گئے۔ والد صاحب ذرا پریشان نہ ہوئے بلکہ اگلے دن 10 لاکھ مزید لے آئے پوچھا تو کہنے لگے کہ میں  نے پستول لیناہے اور اپنی بیٹی اور داماد کو مار دینا ہے۔ اگر پستول نہ ملا تو چھری بھی کافی ہے۔مزید الزام یہ کہ میرے 20 لاکھ بڑے داماد نے ڈاکو بھیج کر لے لیے ہیں۔ اس داماد نے جو سب سےزیادہ ان کا خیر خواہ ہے اور الٹا کما کر دینے والا۔

پہلے بھی پستول لوڈ کر ہر وقت تکیے کے ساتھ رکھتے ہیں اکثر بھول جاتے ہیں اور  ہم سے پوچھتے ہیں کہ کھانا کھایا ہے میں نے یا نہیں کھایا؟ اب مجبو ر کر رہے ہیں لڑ جھگڑ کر ر وپیٹ کر کہ مجھے باقی حصہ بھی بیچنے دو،جبکہ وہ پیسے بینک میں بھی نہیں رکھتے کہ محفوظ رہیں۔ بلکہ گھر لاکر رکھتے ہیں سب بیٹوں اور بینک والوں پر بھی شک کرتے ہیں۔ کہ میرے پیسے لے لیں گے۔ بیٹیوں پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں۔ والدہ  کی حالت انتہائی خراب ہے ان کی خدمت تو کیا مناسب دیکھ  بھال بھی والد صاحب کی موجودگی میں ممکن نہیں۔ بیٹیاں اپنی جان و مال اور عزت کے ڈر سے آئے دن یہاں ڈاکے پڑتے ہیں اور والد صاحب ڈر سے بھی اور اپنے خاوندوں کے منع کرنے کی وجہ سے جانہیں سکتیں۔ ایسی صور ت حال میں کیا ہم والد صاحب کا  ذہنی علاج کرواسکتے ہیں یا نہیں۔نیند کی دوا دے سکتے ہیں ؟

2۔ کیا ان کو سارا مال دے دیا جائے جبکہ ان کی ذہنی حالت ایسی ہے  90 سال عمر کی وجہ سے کہ سنبھال نہیں سکتے۔ پھر ان کو ماہاانہ یک لاکھ اوپر آرہا ہےجو ان کے اخراجات سے ڈبل ہے جسے یہ پہلے ہی ضائع کر رہے ہیں۔ اگر سارا مال ضائع کر بیٹھے تو بیٹیاں کما کر نہیں دے سکتیں۔ یہ باقی عمر کیسے گذاریں گے۔

3۔ہمارے خاوند جانے سے منع کرتےہیں۔ ہمارے لیے شریعت کیا کہتی ہے؟

اب موجودہ صورتحال کے حوالے سے یہ مسئلہ ہے کہ کیا باقی جائیداد والد صاحب کے حوالے کر سکتے ہیں لیکن جس کی یقینی صورتھال یہ   ہوسکتی ہے کہ وہ اس  مال  کو بھی خراب  کردیں  اور اگر نہیں کرتے تو وہ ہمیں بہت زیادہ پریشان کریں  گے اس معاملہ میں والدین کے ساتھ کی سخت رویہ اپنایا جاسکتا ہے اور کس حد تک؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ مذکورہ صورت میں چونکہ یہ بات یقینی ہے کہ آپ کےوالد پیسوں کو ضائع کریں گے، اور پھر آپ ہی کے لیے مسائل پیداہونگے، اس لیے آپ انہیں سارے پیسے نہ دیں۔ بلکہ ضرورت کے بقدر دیتے رہیں۔ اس دوران اگر تھوڑی بہت سخت کلامی وغیرہ سے بھی کام لینا پڑے تو ادب کی ممکنہ رعایت  کے ساتھ لے سکتے ہیں۔

2۔ کسی ماہر ڈاکٹر سے ان کا علاج کرواسکتے ہیں ، اور وہ جو دوا تجویز کرے اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ فقط وا للہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved