- فتوی نمبر: 25-205
- تاریخ: 13 مئی 2024
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
ایک شخص جو کہ بارہ سال سے ٹیکوں کا نشہ کرتا ہے، جس کا کئی بار علاج بھی کروایا لیکن وہ کچھ عرصہ بعد دوبارہ لگانا شروع کر دیتا اور کئی بار کمرے میں بند کرنے کی وجہ سے مہینوں تک ٹیکوں کو چھوڑ دیتا، لیکن جب طلب ہوتی اور روکا جاتا تو سوائے باپ کے ہر کسی کو گالیاں بکتا اور اول فول بکتا۔ کچھ دن پہلے ٹیکے لگوا کر گھر آیا تو اول فول بک رہا تھا جب والدین نے منع کیا تو بعد میں اپنی بیوی کو بلا کر کہا کہ ابو کو تو نے بتایا ہے؟ جس پر اس نے کہا کہ میں نے نہیں بتایا، اس شخص نے اپنی ماں سے کہا کہ ’’اگر اس نے بتایا تو میں اسے فارغ کردوں گا‘‘کچھ دن پہلے جب اس کو کمرے میں بند کیا ہوا تھا اور اس کے والد اور والدہ اپنی عزیزہ کی تیمارداری کے لیے گئے ہوئے تھے تو اس نے اپنی بیوی کو بلایا اور اس کی منت سماجت کی کہ مجھے نکل جانے دو، بیوی نے کہا میں آپ کو نہیں نکلنے دوں گی، اس کے زیادہ دھمکانے پر بیوی نے وعدہ کرلیا کہ میں باہر جاکر آپ کو کھول دیتی ہوں لیکن اس نے اسے نہیں کھولا، کچھ دیر بعد اس نے شور مچانا اور دروازہ پیٹنا شروع کردیا اور دیواروں میں ٹکریں مارنے لگا، چھوٹے بھائیوں کی بیویوں اور بیٹی نے اسے منع کیا تو اس نے بطور دھمکی کہا کہ ’’میری بیوی کو کہو کہ میری بات سنے، ورنہ میں نے دو تو دے دیں اور اگر نہ آئی تو تیسری بھی دے دوں گا‘‘ اور جب بیوی اندر گئی تو اس کو دھمکی دے کر اور یرغمال بنا کر کمرے سے نکل گیا۔
وضاحت مطلوب ہے کہ: شوہر نے یہ الفاظ کہ ’’میری بیوی کو کہو کہ میری بات سنے، ورنہ میں نے دو تو دے دیں اور اگر نہ آئی تو تیسری بھی دے دوں گا‘‘تو اس وقت اس کی کیا نیت تھی؟
جوابِ وضاحت: صرف ڈرانے، دھمکانے کے لیے کہا تھا کہ بیوی کھول دے، طلاق وغیرہ کی کوئی نیت نہیں تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر نے اپنی والدہ سے اپنی بیوی کے بارے میں جب یہ کہا کہ ’’اگر اس نے بتایا تو میں اسے فارغ کردوں گا‘‘ تو اس جملے میں شوہر نے طلاق کو معلق نہیں کیا بلکہ والد کو بتانے کی صورت میں بیوی کو طلاق کی دھمکی دی ہے، اور طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ اس کے بعد شوہر نے جب بیوی سے یہ کہا کہ ’’میری بیوی کو کہو کہ میری بات سنے ۔۔۔۔۔الخ‘‘ تو اس وقت شوہر كی ظاہری حالت مثلاً دروازے پیٹنا اور دیواروں میں ٹکریں مارنا وغیرہ، سے معلوم ہورہا ہے کہ اس کی دماغی حالت درست نہیں تھی اور اس وقت وہ اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھا اور ایسی حالت میں دی گئی طلاق معتبر نہیں ہوتی۔ نیز اگر شوہر کی دماغی حالت درست بھی ہوتی تو شوہر نے بیوی کی نسبت سے جو الفاظ استعمال کیے تھے ان میں اس جملے سے کہ ’’ میں نے دو تو دے دیں‘‘ اس وقت طلاق ہوتی جب شوہر نے یہ جملہ طلاق کی نیت سے کہا ہوتا، کیونکہ اس جملے میں شوہر نے صرف عدد (گنتی) کا ذکر کیا ہے معدود کا ذکر نہیں کیا، اور یہ معدود طلاق بھی ہوسکتا ہے اور طلاق کے علاوہ کچھ اور بھی، اور چونکہ شوہر نے طلاق کی نیت نہیں کی تھی بلکہ صرف ڈرانے دھمکانے کے لیے یہ کہا تھا اس لیے محض عدد (گنتی) سے طلاق واقع نہ ہوتی۔لیکن اس صورت میں شوہر کو طلاق کی نیت نہ ہونے پر بیوی کے سامنے قسم بھی دینی ہوتی لہٰذا قسم دے دیتا تو طلاق واقع نہ ہوتی اور اگر قسم دینے سے انکار کرتا تو بیوی اپنے حق میں دو رجعی طلاقیں شمار کرتی۔
المحیط البرہانی (5/245) میں ہے:”سئل نجم الدين النسفي رحمه الله عن زوجين وقعت بينهما مشاجرة. فقالت المرأة: با تو نمي باشم، مرا طلاق كن، فقال الزوج: طلاق مي كنم، طلاق مي كنم طلاق مي كنم؟ أجاب وقال: بأنها تطلق ثلاثاً؛ لأن قوله: طلاق مي كنم يتمحض للحال وهو تحقيق بخلاف قوله: كنم؛ لأنه يتمحض للاستقبال وهو وعد، وبالعربية قوله: أطلق، لا يكون طلاقاً لأنه دائر بين الحال والاستقبال فلم يكن تحقيقاً مع الشك ………. وهذا الاحتمال بالعربية، أما بالفارسية قوله: ميكنم للحال، وقوله: كنم للاستقبال.“رد المحتار مع در مختار (4/436) میں ہے:(لا يقع طلاق المولى على امرأة عبده)……… والمجنون…..قوله: (والمجنون) قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب، بأن لا تظهر آثارها وتتعطل أفعالها، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة، وإما لاستيلاء الشيطان عليه وإلقاء الخيالات الفاسدة إليه بحيث يفرح ويفزع من غير ما يصلح سببا. اهـخلاصۃ الفتاویٰ (2/98) میں ہے:وفي الفتاوى رجل قال لامرأته ترا يكي وترا سه او قال تو يكي تو سه قال أبو القاسم الصفار رحمه الله لا يقع شيئ وقال الصدر الشهيد رحمه الله يقع إذا نوى قال وبه يفتىفتاویٰ محمودیہ (12/463) میں ہے:’’سوال : زید نے اپنی زوجہ ہندہ سے کچھ اَن بَن ہونے پر اس کی مار پیٹ کی، بعد یہ کہا کہ ایک دو تین، اس کے کچھ دیر بعد زید اپنی ماں سے کہنے لگا کہ اس کو اس کے میکہ پہنچادو، ۔۔۔۔۔تو اب حکمِ شرع کیا ہے؟الجواب حامداً ومصلیاً: لفظ ’’ایک دو تین‘‘ اصالۃً طلاق کیلئے موضوع نہیں بلکہ گنتی کیلئے موضوع ہے، جس سے طلاق کی گنتی بھی مراد لی جاتی ہے اور غیر طلاق کی بھی اور عامۃً تو اس کا معدود بھی ذکر کیا جاتا ہے، اور کبھی کبھی قرینہ مقام کے لحاظ سے صرف ذکرِ عدد پر کفایت کی جاتی ہے، معدود کو مخاطب بغیر ذکر کئے سمجھ جاتا ہے، اور کبھی یہ کسی کام کو پختہ کرنے اور انتہا تک پہنچانے کیلئے بھی بولا جاتا ہے، مثلاً نیلام کی جب بولی ختم کرنا ہو تو ایک دو تین بول دیتے ہیں، یا کسی کام کو شروع کرنے کیلئے ایک دو تین بول دیتے ہیں، پس اگر زید نے اس لفظ ’’ایک دو تین‘‘ سے یہ مراد لیا ہے کہ میں نے بیوی کو ایک دو تین طلاق دیدی تو طلاق مغلظہ ہوگئی۔۔۔لو قال لا مرأته انت بثلاث قال ابن الفضیل اذا نوی یقع ……… ولو قال انت منی ثلاثاً طلقت ان نوی او کان فی مذاکرة الطلاق ………. قوله: بثلاث دل علی عدد طلاق مقدر نواه المتکلم. اه شامی ص:۴۴۸، ج:۲،[4/485] (قبل طلاق غیرا لمدخول بها بثلاثة اوراق) فقط والله تعالی أعلم‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved