• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زیور کی جگہ پیسے واپس دینا

استفتاء

میں نے دس سال پہلے ایک شخص کو دس تولہ سونا ادھار دیا  جس میں سات تولہ ہاتھ سے بنے ہوئے زیور کی شکل میں تھا اور تین تولہ اینٹ کی شکل میں تھا تو اس وقت ایک تولہ سونا کی قیمت پانچ سو ڈالر  تھی، اب وہ مجھ سے کہتا ہے کہ میں اس کے تمام روپے پانچ ہزار ڈالر میں دے دوں گا، جو اس وقت کی قیمت ہے۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ میں نے تمہیں دس تولہ سونا دیا ہے، مجھے پورا دس تولہ سونا چاہیے۔ کیا یہ شریعت کے نقطہ نظر سے صحیح ہے؟

فریق دوم کا مؤقف:

یہ سوال ٹھیک ہے لیکن اس وقت سونے کی قیمت کم تھی اور اب سونے کی قیمت زیادہ ہے میں اسے کہتا ہوں کہ میں اس وقت کی قیمت دیتا ہوں وہ ہم سے سونا چاہتا ہے، اس  نے  ہم کو سونا قرض دیا تھا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں قرض لینے والا، قرض دینے والے کو 10 تولہ سونا  ہی واپس  کرنے کا پابند ہے،جس میں سے 7 تولہ جو زیور کی شکل میں دیا تھا  اسی طرح کے زیور کی شکل میں دے دے ۔البتہ اگر باہمی رضامندی سے ان 10 تولہ کے بدلے میں پیسے دینا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے اور ریٹ  باہمی رضامندی سے  کچھ بھی طے کیا جا سکتا ہے  البتہ اس میں یہ شرط ہے کہ جس مجلس میں پیسوں کا معاملہ طے ہو  اسی مجلس میں کُل پیسے  ادا کر دیے جائیں۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں چونکہ قرض دینے والے نے  سونا قرض دیا تھا اور قرض میں اصول ہے کہ جس شکل میں قرض دیا جائے اسی شکل میں اس کی واپسی ہوتی ہے،نیز ان دس تولہ میں سے اگرچہ سات تولہ سونا ہاتھ سے بنے ہوئے زیور کی شکل میں دیا تھا جو کہ غیر مثلی ہے ،اور اس  کا قرض  حنفیہ کے نزدیک درست نہیں لیکن امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک درست ہے ، ہمارے ہاں چونکہ اس کا عرف ہے اس لیے امام مالکؒ کے قول کے مطابق  زیور کو بطور  قرض دینے کی گنجائش ہے ۔

مختصراختلاف العلماءللطحاوی(4/403) میں ہے:

قال ابو حنيفة واصحابه والشافعي لايجوز قرض الحلي کالاواني ونحوها وقال مالک اذاکانت له صناعة معروفة جاز قرضه فاذا اعاره کانت عاريته قرضا

درمختار(7/406) میں ہے:

القرض هو عقد مخصوص يرد على دفع مال مثليّ لآخر ليرد مثله وصح في مثلي هو کل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاک لا في غيره من القيميات کحيوان و حطب و عقار و کل متفاوت لتعذر رد المثل……فيصح استقراض الدراهم و الدنانير و کذا کل ما يکال او يوزن او يعد متقارباً…………الخ

درمختار (7/411) میں ہے:

‌فجاز ‌شراء ‌المستقرض القرض ولو قائما من المقرض بدراهم مقبوضة فلو تفرقا قبل قبضها بطل لأنه افتراق عن دين بزازية .

اوجز المسالک (11/447) میں ہے:

قال ابن المنذر : أجمع كل من نحفظ عنه من أهل العلم على أن استقراض ما له مثل من المكيل والموزون والأطعمة جائز ، و يجوز قرض كل ما يثبت في الذمة سلماً سوى بني آدم ، وبهذا قال الشافعي …………………. ويجب رد المثل في المكيل والموزون ، لا نعلم فيه خلافًا ، وكذا حكي عن ابن المنذر الإجماع على ذلك ، فأما غير المكيل والموزون ففيه وجهان ، أحدهما يجب قيمته يوم القرض ، لأنه لا مثل له فيضمنه بقيمته ، والثاني يجب رد مثله ، لأنه استسلف من رجل بكرا فرد مثله

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved