• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زندگی میں سارا کچھ آدمی کی اپنی ملکیت ہے اس میں کسی کا کوئی حق نہیں

استفتاء

ہم تین بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔ ہمارے والدین صاحب جائیداد ہیں اور اس کے علاوہ ہمارے والد کی پنشن تقریباً 20000 روپے ہے۔ ہمارے والدین نے اپنا گھر اپنے دور میں بہت شوق سے بنوایا تھا اور ہماری والدہ کو اپنےگھر سے خاص انسیت ہے۔ لیکن اب وہ تقریباً معذوری کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ہمارے والدین کو جب بھی میڈیکل یا گھریلو ضرورت ہوتی ہے تو ۔۔۔بڑی بہن صاحب حیثیت ہونے کی وجہ سے اس کو پورا کرتی ہے۔ اور ایسے موقعے پر وہ روپے پیسے کی بالکل پرواہ نہیں کرتی۔ اس کے باوجود وہ والدین کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتی،کیونکہ وہ مستقل طور پر امریکہ میں مقیم ہے۔

2۔ ہم میں سے دوسری بہن افورڈ تو کر سکتی ہے لیکن اس کے شوہر ہمارے والدین کی مستقل کفالت کی ذمہ داری نہیں لینا چاہتے۔ ان کے خیال میں  وہ صاحب جائیداد ہیں اور ان کی پنشن بھی ٹھیک ہے ۔ جوکہ  صرف ان کا بیٹا استعمال کر تا ہے۔ وہ ہی والدین کو رکھنے کا ذمہ دار ہے۔

3۔ ہم میں سے تیسری بہن مالی طور پر کمزور ہے۔ گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے سہولتیں ناکافی ہیں۔ بنیادی سہولتیں  بچے چھوٹے ہیں۔ اس کے باوجود جس حد تک ممکن ہے والدین کو سنبھالتی ہے۔ لیکن مستقل اس کے شوہر بھی پسند نہیں کرتے کہ وہ بیوی کے والدین کو سنبھالیں۔

آپ سے درخواست ہے کہ ہم تینوں بہنوں پر شادی کے بعد والدین کے کیا فرائض ہیں؟

ہمارے ایک رشتہ دارکا کہنا ہے کہ یہ پوری بات ان ہی کی زبانی ہے” والدین کو سنبھالنا لڑکیوں کا فرض ہے۔ بیٹا اپنے بچوں کے لیے کمائے یا والدین کو سنبھالے”۔

اور ہماری والدہ کو زبردستی محلے داروں کے ساتھ ہمارے گھروں میں بھیجا جاتا ہے۔ ان کا قصور یہ ہے کہ وہ  بولتی بہت ہیں اور  آئے دن اس گھر سے نکالا جاتا ہے جس گھر پر ان کے شوہر کا خون پسینہ لگا ہوا ہے  اور اپنی زندگی کے بہترین سال ہماری والدہ نے  یہیں اور اس گھر کو دیئے ہیں۔ آپ سے گذارش ہے  کہ اس سوال کا جواب لکھ کر دیں کہ شادی شدہ بچیاں اپنی گھریلو مجبوریوں کے ساتھ اپنے والدین کے حقوق کس طرح ادا کریں؟ جبکہ بیٹا صاحب حیثیت ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی کمائی اور جائیداد سے بھی لطف اندوز ہو رہا ہے۔

2۔ والدین کی اگر خواہش ہو کہ ان کی جائیداد کی شرعی تقسیم ہو اور بچیوں کو بھی ان کا حق دیا جائے تو کیا بیٹیاں شرعی حقدار ہیں؟ اور اگر ان کو ان کا شرعی حق لینے سے روکے یا والد کے روپے کو باقی حقداروں سے چوری  خرد برد کرے  یا اس چوری میں کسی ایک کی مدد کرے تو ایسے شخص کے بارے میں قرآن وسنت کی روشنی میں کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جب تک والدین زندہ ہیں ان کے مکان سے ان کو باہر نہیں نکالا جا سکتا  اور جو پینشن والد کو ملتی ہے  اس پر خالص ان ہی کا حق ہے بیٹے کا نہیں ہے۔ اگر ان کو مزید خرچ کی مجبوری ہو تو بیٹے  بیٹیاں اپنی حیثیت کے مطابق ان پر خرچہ کریں۔ والدین کی دیکھ بھال کے لیے کوئی ملازم رکھ سکتے ہیں۔ اور بیٹے بیٹیاں وقت لکال کر ان کی خبر گیری کرتے رہیں۔ بیٹے کا والد کی  پینشن خود استعمال کرنا  اور والدین کو نظر انداز کرنا بہت بری بات ہے۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved