- فتوی نمبر: 32-148
- تاریخ: 02 فروری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > ہبہ و ہدیہ
استفتاء
میرا نام زید ہے۔ میری دو بیٹیاں، ایک بیوی، تین بہنیں اور دو بھائی حیات ہیں اب سوال یہ ہے کہ:
1۔اگر میں زندگی میں وراثت تقسیم کرنا چاہوں تو کیسے ہوگی؟
2۔میرے مرنے کے بعد میری وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔اپنی زندگی میں جائیدادتقسیم کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے لیے جتنا حصہ رکھنا چاہیں رکھ لیں باقی جائيداد میں سے بیوی کو آٹهواں حصہ دے ديں اس كے بعد جو باقی بچے اس کے تین حصے کرلیں جن میں سے ایک ایک حصہ دونوں بیٹیوں کو اور ایک حصہ بہن بھائیوں کو دے دیں جو ان میں برابر تقسیم ہوگا، اور اگر بیوی کو آٹھواں حصہ دینے کے بعد باقی تمام جائیداد بیٹیوں کو دے دیں اور بہن بھائیوں کو کچھ نہ دیں تو اس کی بھی گنجائش ہے بشرطیکہ ایسا کرنے سے بھا ئی اور بہنوں کو محروم کرنا مقصودنہ ہو اور ان کو اس پر اعتراض بھی نہ ہو ۔
سنن ابن ماجہ(رقم الحديث2070)ميں ہے:
عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من فر من ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة
التنوير شرح الجامع الصغير (3/ 454) میں ہے:
إن الرجل ليعمل أو المرأة بطاعة الله تعالى ستين سنة ثم يحضرهما الموت فيضاران في الوصية فتجب لهما النار” (د ت) عن أبي هريرة»
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2039) میں ہے:
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن الرجل ليعمل والمرأة بطاعة الله ستين سنة، ثم يحضرهما الموت، فيضاران في الوصية، فتجب لهما النار» . ثم قرأ أبو هريرة {من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار} [النساء: 12] إلى قوله {وذلك الفوز العظيم} [النساء: 13] رواه أحمد، والترمذي، وأبو داود، وابن ماجه.
( «ثم يحضرهما الموت» ) أي: علامته ( «فيضاران في الوصية» ) من المضارة أي: يوصلان الضرر إلى الوارث بسبب الوصية للأجنبي بأكثر من الثلث، أو بأن يهب جميع ماله لواحد من الورثة كيلا يرث وارث آخر من ماله شيئا، فهذا مكروه وفرار عن حكم الله تعالى، ذكره ابن الملك، وفيه: أنه لا يحصل بهما ضرر لأحد، اللهم إلا أن يقال معناه فيقصدان الضرر، وقال بعضهم: كان يوصي لغير أهل الوصية أو يوصي بعدم إمضاء ما أوصى به حقا بأن ندم من وصيته أو ينقض بعض الوصية ( «فتجب لهما النار» ) أي: فتثبت والمعنى يستحقان العقوبة، ولكنهما تحت المشيئة.
2۔مرنے کے بعد آپ کی جائیداد کی تقسیم (بشرطیکہ ورثاء وہی ہوں جو فی الحال ہیں) اس طرح ہوگی کہ کل جائیداد کے 168 حصے کیے جائیں گے جن میں سے ہر ایک بیٹی کو 56 حصے (33.33 فیصد)، بیوی کو 21 حصے (12.5 فیصد) اور ہر بہن کو 5 حصے (2.97 فیصد) اور ہر بھائی کو 10 حصے(5.95 فیصد) ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
24×7=168
| 2بیٹیاں | بیوی | 3 بہنیں | 2بھائی |
| ثلثان | ثمن | عصبہ | |
| 16 | 3 | 5 | |
| 16×7 | 3×7 | 5×7 | |
| 112 | 21 | 35 | |
| 56+56 | 21 | 5+5+5 | 10+10 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved