• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

ظہر کی سنتیں دو دو پڑھیں یا چار

استفتاء

1۔ظہر کے فرض سے پہلے جو چار سنتیں ہیں وہ دو دو الگ پڑھی جاتی ہیں یا چار سنتیں اکھٹی بھی پڑھ سکتے ہیں؟

2۔کیا یہ صحیح ہے کہ ہمارے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نےظہر سے پہلے کبھی دو اور کبھی چار  سنتیں  ادا کیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنتوں  کو دو دو کر کے الگ الگ پڑھنا کافی نہیں بلکہ چار رکعت اکٹھی یعنی ایک سلام کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔

بخاری شریف (157/1) میں  ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يدع اربعا قبل الظهر وركعتين قبل الغداة .

ترجمہ :حضرت   عائشہ  رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چاررکعت ( ایک سلام کے ساتھ )اور فجر سے پہلے دو رکعت پڑھنا  نہ چھوڑتے تھے ۔

الدر المختار مع رد المختار( ٦٣١/٢ ) میں ہے:

و سن مؤكدا ( اربع قبل الظهر و ) اربع قبل الجمعة واربع بعدها بتسليمة   فلو بتسليمتين لم تنب عن السنة .

ترجمہ۔ظہر اور جمعہ سے پہلے اور جمعہ کے بعد چار رکعات  ایک سلام کے ساتھ پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے  اور اگر  انکو دو سلام کیساتھ پڑھیں (دو دو رکعت کر کے )تو  یہ چار رکعات سنت کے قائم مقام نہ ہو ں گی۔

2۔یہ بات درست نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر  سے پہلےکبھی دو اورکبھی چار سنتیں ادا کیں کیونکہ یہ بات حدیث عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے خلاف ہے البتہ بعض روایات میں ظہر سے  پہلے دو رکعات کا ذکر ملتا ہے لیکن ان دو رکعات سے مراد ظہر کی سنتیں نہیں بلکہ تحیۃ المسجد مراد ہیں۔

چنانچہ علامہ ابن ہمام فتح القدیر (1/459) میں  تحریرفرماتے ہیں :

 فالأولى الاستدلال  بمجموع حديثين  حديث ابن عمررضي الله تعالى عنه  (حفظت من رسول صلى الله عليه وسلم عشر ركعات : ركعتين قبل الظهر ، وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب في بيته وركعتين بعد العشاء وركعتين قبل صلاة الصبح )  و حديث عائشة رضي الله تعالى عنها (انه صلى الله عليه وسلم كان لايدع  اربعا  قبل الظهر وركعتين قبل الغداة )بناء على الجمع بينهما  اما بان الاربع كان  يصليها في بيته فاتفق عدم علم ابن عمر بهن وان علم غيرها مما صلى فى بيته لانه صلى  الله عليه وسلم كان يصلى الكل فى البيت ، ثم كان يصلى ركعتين تحية المسجد،فكان ابن عمر يراهما

ترجمہ:بہتر یہ ہے کہ دونوں حدیثوں کے مجموعہ سے استدلال کیا جائے یعنی حضرت ابن عمر  رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث کہ (میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دس  رکعات  محفوظ کی ہیں دو رکعات ظہر سے پہلے اور دو رکعات ظہر کے بعد۔۔۔۔۔الخ)اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعات اور فجر سے پہلے دو رکعات کبھی نہیں چھوڑتے تھے )ان دونوں میں تطبیق اس طرح  ہےکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )(ظہر کی ) چار رکعات  گھر میں پڑھتے تھے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کا علم نہیں ہوا اور حضرت ابن عمر   رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ دیگرحضرات (مثلاحضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا )کے علم میں وہ نماز آ گئی جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) گھر میں پڑھتے تھے۔اس لئے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم) تمام (سنن ،نوافل )گھر میں پڑھتے تھے ۔پھر جب مسجد  تشریف لے جاتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )تحیۃ المسجد کی دو رکعات مسجد میں پڑھتے تھے جن کو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا اور فرمایا  کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعات پڑھتے تھے۔

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved