- فتوی نمبر: 26-217
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
مفتی صاحب آجکل بازاروں میں یہ صورت رائج ہے کہ ایک گاہک دکاندار کے پاس سامان خریدنے آتا ہے اور وہ چیز دکاندارکے پاس نہیں ہوتی تو دکاندار وہ چیز دوسرے دکاندار سے منگوا کر فروخت کرتا ہے ،دکاندار نے مثلا وہ چیز دوسرے دکاندار سے 100 روپے میں لی ہے تو آگے وہی چیز 120 روپے میں فروخت کردیتا ہے شرعا یہ بیچنا کیسا ہے؟
زید کا مؤقف ہے کہ یہ بیع جائز نہیں ہے کیونکہ یہ دکاندار گاہک کی طرف سے وکیل بن کر دوسرے دکاندار سے چیز لے کر آتا ہے (یعنی اس کے لیے پھر مزید 20 روپے لے کر گاہک کو دینا جائز نہیں ہے )، جبکہ بکر کا مؤقف یہ ہے کہ یہ بیع شرعا درست ہے کیونکہ آجکل بازار وں کے عرف میں یہ چیز عام ہے کہ جو چیز دکاندار کے پاس نہیں ہوتی تو وہ دوسرے دکاندار سے منگوا کر فروخت کرتا ہے ۔
مفتی صاحب جمہور فقہاء احناف کے نزدیک ان دونوں میں سے کس کا مؤقف درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بکر کا مؤقف درست ہے اور ہمارے عرف میں اس صورت میں پہلے دکاندار کو وکیل نہیں سمجھا جاتا بلکہ گاہک کا مقصود بھی اس دکاندار سے خریدنا ہی ہوتا ہے اور اسے اگر قیمت مناسب لگے تو اس بات سے بھی غرض نہیں ہوتی کہ اس دکاندار کا بیچ میں نفع کتنا ہے ، البتہ وہ پہلا دکاندار جب تک وہ چیز اس کی ملکیت میں نہیں آجاتی گاہک سے اس کی خرید وفروخت کا معاملہ نہیں کرسکتا (تاکہ غیر مملوک کی بیع لازم نہ آئے ) اس سے پہلے گاہک کے آرڈر کی حیثیت صرف وعدہ کی ہوگی۔
نوٹ: یہ جواب عام عرف کے مطابق ہے ورنہ اگر کہیں باقاعدہ گاہک پہلے دکاندار کوخریداری کا وکیل بنائے تو اس صورت میں پہلے سے طے کیے بغیر اس دکاندار کے لیے اجرت لینا جائز نہ ہوگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved