- فتوی نمبر: 34-119
- تاریخ: 06 دسمبر 2025
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مدارس کے احکام
استفتاء
ایک جگہ جو پہلے مدرسہ کے لیےوقف کی تھی مگر وہاں مدرسہ نہ چل سکا اور وہ جگہ چھوڑ کر چلے گئے اور انہوں نے یہ کہا کہ یہ اپنی جگہ واپس لے لو اب آیا کیا اس جگہ کو قبرستان كے ليے وقف کیا جا سکتا ہے يا نہیں؟ یہ مانسہرہ اوگی کا پہاڑی علاقہ ہے اور یہ زمین آبادی سے ہٹ کر ہے اور اس جگہ میں کوئی عمارت وغیرہ کچھ نہیں بنی ہوئی اس کے ساتھ پہلے سے قبرستان ہے جس کے ساتھ یہ زمین ملی ہوئی ہے ، آنے والے وقت میں بھی اس طرف آبادی کا کوئی امکان نہیں جس کو جگہ دی تھی کہ یہاں مدرسہ بنا کر چلائے وہ بریلوی تھے۔ اور یہاں اکثریت دیوبندیوں کی ہے۔ واقف بھی موجود ہے۔
نوٹ: سائل نے واقف سے بات کروائی تو واقف نے مذکورہ صورتحال کی تصدیق کی اور کہا اگر شریعت اجازت دیتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
وضاحت مطلوب ہے: نہ چلنے کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا کوئی اور اس مدرسہ کو چلانے کے لیے تیار نہیں ہے؟
جواب وضاحت: نہ چلنے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں الحمدللہ اکثریت دیوبند مسلک کی ہے اور یہ جگہ جس کو دی تھی وہ بریلوی مسلک سے تھے وہ چھوڑ کر چلے گے ہیں۔ کوئی اور اس مدرسے کو چلانے کے لیے تیار نہیں ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زمین قبرستان کے لیے وقف نہیں کی جا سکتی بلکہ اسے مدرسہ کے لیے ہی استعمال کرنا ضروری ہے تاہم اگر باوجود کوشش کے مدرسہ چلنے کا کوئی امکان نہیں اور نہ ہی آئندہ اس جگہ پر مدرسہ چل سکتا ہے تو اس زمین کو بیچ کر حاصل ہونے والے پیسوں سے دوسری جگہ مدرسے کے لیے زمین لے لی جائے یا یہ پیسے قریب کے مدرسے پر خرچ کر دیے جائیں۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں زمین وقف کرتے ہی واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ کی ملکیت میں چلی گئی لہذا واقف کو اس کی تبدیلی کا کوئی اختیار نہیں اور جس جہت پر وقف کی گئی یعنی مدرسہ کیلیے،تو اسی جہت پر یہ زمین رہے گی۔
شامی (4/352) میں ہے:
(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)
(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه
فتاوی محمودیہ(291/14) میں ہے:
سوال: ایک شخص نے اپنا مکان مدرسہ اسلامیہ محلہ بندوقچیاں کے نام وقف کیا………. دریافت طلب امر یہ ہے کہ:
1۔ اس مکان موقوفہ کو بدل سکتے ہیں یا نہیں؟ جبکہ وہ مکان جو اس کے بدلے آئے گا اس کو اسی طرح وقف کر دیں۔
2۔ اور اس کے بدلے میں نقد روپیہ ملے گا اس کو اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں؟
3۔ اس روپیہ سے اپنا قرض ادا کر سکتے ہیں یا نہیں یا اس روپیہ کو مدرسے میں داخل کرنا ضروری ہے؟
جواب: جبكہ وہ مکان مدرسے کے لیے وقف ہے تو اس کو فروخت کرنا اور اس کے عوض دوسرا مکان خریدنا اور اس کی قیمت کو اپنے کام میں لانا کچھ بھی جائز نہیں۔ وہ مکان مدرسے کے حوالے کر دیا جائے مدرسہ اس کی مرمت یا تعمیر کرائے گا۔ ہاں اگر وہ بالکل ہی قابل انتقاع نہ رہے اور اس سے کوئی آمدنی حاصل نہ ہو اور مرمت و تعمیر کی بھی وسعت نہ ہو تو اس کو بدل لینا درست ہے اس طرح اس کو فروخت کر کے اس کے عوض دوسرا مکان دے کر مدرسے میں شرائط واقف کے تحت وقف کر دیا جائے اس کا روپیہ شرائط واقف کے خلاف کسی کام میں خرچ کرنا درست نہیں۔
احسن الفتاوی(6/422) ميں ہے:
سوال: ایک زمین محض ایک دینی درسگاہ کے لیے وقف کی گئی ہے زمین پر حکومت قبضہ کر کے ہائی سکول بنا رہی ہے اور شہر کے لوگ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ سکول بن جائے……….. اگر متولی اجازت دے دے تو اسکول بنانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: علوم دینیہ کے لیے جو زمین وقف ہے اس کو کسی دوسرے مصرف میں لانا حرام ہے۔حکومت شہر کے لوگ اور متولی کسی کو بھی اس میں اسکول بنانے کا حق نہیں جو لوگ ایسی کوشش کر رہے ہیں وہ سخت گنہگار ہیں ………… الخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved