• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

چندے سے مسجد کے صحن میں واٹر(پانی کا) کولر لگوانا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں کی مسجد میں چندے سے سولر سسٹم لگا ہوا ہے جو مسجد کی ضروریات مکمل کرتا ہے اور اب ہمارا ارادہ ہے کہ مسجد کے اندر ایک بڑا واٹر کولر ٹھنڈے پانی کے لیے لگایا جائے  جس کا پانی  نمازی حضرات بھی استعمال کر لیں اور اس کا ایک نلکا باہر گلی میں لگا دیں تاکہ محلے والے بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ آیا اس کی شرعاً   گنجائش ہے؟

وضاحت مطلوب ہے:1۔کیا واٹر کولر کے لیے مسجد میں جگہ کشادہ ہے؟ 2۔ کیا مسجد کے چندے سے یہ کولر لگوانا ہے یا اسکا الگ چندہ ہوگا؟3۔ مسجد کے جس حصے میں واٹر کولر لگانا ہے وہ حصہ شرعی مسجد میں شامل ہے یا وہ جگہ شرعی مسجد کے علاوہ ہے؟

جواب وضاحت: 1۔ مسجد میں جگہ کشادہ ہے۔2۔ کولر کے لیے الگ چندہ ہوگا ، صرف پانی اور سولر مسجد کا استعمال ہوگا۔3۔ شرعی  مسجد جہاں نماز وغیرہ پڑھتے ہیں وہ جگہ بالکل الگ ہے  اور جہاں واٹر کولر لگانا ہے  وہ جگہ استنجاء خانے اور وضو خانے سے بھی باہر ہے لیکن مسجد کی چار دیواری کے اندر ہے ، صرف سولر اور پانی مسجد کا استعمال ہوگا اور مسجد کی چار دیواری کے اندر ہوگا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اس جگہ واٹر کولر لگانا جائز ہے۔

البحرالرائق (5/275) میں ہے:

وما ‌غرس ‌في ‌المساجد من الأشجار المثمرة إن غرس للسبيل وهو الوقف على العامة كان لكل من دخل المسجد من المسلمين أن يأكل منها وإن غرس للمسجد لا يجوز صرفها إلا إلى مصالح المسجد

کفایت المفتی (7/41) میں ہے:

صحن مسجد کا اطلاق دو معنوں پر کیا جاتا ہے، اول مسجد کے اس غیر مسقف حصہ  کو صحن کہتے ہیں جو مہیاللصلوۃ  تو ہوتا ہے یعنی نماز و جماعت ادا کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے لیکن بغیر چھت کے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے تو اس حصے کو بھی صحن کہہ دیتے ہیں جو موضع مہیاللصلوۃ کے مسقف اور غیر مسقف حصہ کے بعد خالی زمین یا فرش کی صورت میں چھوڑ دیا جاتا ہے مگر وہ نماز وہ جماعت ادا کرنے کے لیے نہیں بنایا جاتا پہلے معنی کے لحاظ سے صحن مسجد کا ہی ایک حصہ ہے اور اس کے احکام مسجد کے احکام ہیں اس میں حوض اور وضو کی نالی وغیرہ بنانا جائز نہیں کیونکہ جو جگہ ایک مرتبہ مسجد ہو جائے اور اس کو نماز کے لیے مخصوص کر دیا جائے پھر اس کو کسی دوسرے کام میں نہیں لا سکتے اور دوسرے معنی کے لحاظ سے صحن ایک علیحدہ چیز ہے یعنی اگرچہ وہ مسجد کے ساتھ وقف ہونے میں شامل ہے مگر مسجد کے احکام اس کے لیے ثابت نہیں اس میں جوتیاں پہن کر جانا یا جنابت کی حالت میں گزرنا جائز ہے مسجد کی توسیع کی ضرورت سے اس کو مسجد میں شامل کر لینا اس میں حوض اور وضو کی نالی بنا لینا جائز ہے اگر وہ مسجد میں ایک مرتبہ شامل کر لیا جائے گا تو پھر وہ مسجد کے حکم میں ہو جائے گا اسی صحن بالمعنی الثانی کے کسی ایسے گوشے میں جو نفس مسجد سے دور ہوں پاخانہ بنا لینا بھی جائز ہے بشرطیکہ  اس کی بدبو مسجد تک نہ پہنچے مسجد کو منہدم کر کے صحن بنا لینا بالمعنی اول جائز ہے اور مسجد کو صحن بالمعنی الثانی بنانا ناجائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved