- فتوی نمبر: 34-134
- تاریخ: 07 دسمبر 2025
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
ایک بندے نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ “اگر میں نے تم سے جماع کیا تمہیں طلاق ہے ، پھر جماع کیا پھر طلاق ہے پھر جماع کیا پھر طلاق ہے” اب اس نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی پھر عدت گزر نے کے بعد اس نے اپنی بیوی سے جماع کیا بطور زنا تاکہ وہ شرط ختم کر دے اب اس نے دو بارہ نکاح کیا ہے کیا وہ شرط ختم ہوگئی؟ اور اسکا دو بارہ نکاح صحیح ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں دوبارہ نکاح کے بعد اگر شوہر دو مرتبہ اپنی بیوی سے جماع کر چکا ہے تو تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے اور رجوع یا صلح کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔
تو جیہ جب طلاق کو کسی شرط پر معلق کیا جائے تو شرط پائے جانے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ مذکورہ صورت میں شوہر نے اس جملے سے کہ” اگر میں نے تم سے جماع کیا تمہیں طلاق ہے ، پھر جماع کیاپھر طلاق ہے، پھر جماع کیاپھر طلاق ہے” تین الگ الگ طلاقوں کو تین شرطوں کے ساتھ معلق کیا تھا لہذا شوہر کے بیوی سے جماع کرنے سے طلاق واقع ہو جاتی لیکن شوہر نے جماع نہیں کیا بلکہ ویسے ہی ایک طلاق دے دی۔ پھر جب شوہر نے زنا کیا تو اگرچہ یہ فعل حرام تھا لیکن شرط پائے جانے کی وجہ سے تین تعلیقوں میں سے ایک تعلیق ختم ہوگئی اور طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ اس وقت نکاح ہی قائم نہیں تھا اس کے بعد دو تعلیقیں باقی تھیں پھر جب شوہر نے نکاح کیا تو نکاح درست تھا اس کے بعد اگرشوہر نے ایک مرتبہ جماع کیا تو دوسری طلاق واقع ہو گئی اور اس کے بعد دوبارہ جماع کیا تو تیسری طلاق واقع ہو گئی۔
نوٹ: مذکورہ جواب نفس مسئلہ کی حد تک ہے یعنی اگر کسی نے بدبختی سے مذکورہ صورت اختیار کی تو جواب کیا ہے۔
باقی زنا کرنا اور زنا کو ایک حیلہ بنانا انتہائی خطرناک ہے جس سے ایمان سلب ہونے کا خطرہ ہے لہذا مذکورہ صورت اگر محض فرضی نہیں بلکہ واقعی ہے تو مذکورہ شخص کو فوراً سچے دل سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔
فتاوی عالمگیری(1/420) میں ہے:
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق
الدر المختار (4/450) میں ہے:
ومن الالفاظ المستعملة، الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف
وفي الشامية: ففي الذخيرة وعن ابن سلام فيمن قال: إن فعلت كذا فثلاث تطليقات علي أو قال علي واجبات يعتبر عادة أهل البلد ………… وقال: أقول الحق. الوقوع به في هذا الزمان لاشتهاره في معنى التطليق
شامی (3/ 355) میں ہے:
(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها.
ہندیہ ( 1/ 473 ) میں ہے:
و إن كان الطلاق ثلاثاً في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكأ زوجا غيره نكاحاً صحيحاً و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved