- فتوی نمبر: 34-136
- تاریخ: 07 دسمبر 2025
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مساجد کے احکام
استفتاء
ایک مسجد کے صحن میں لیٹرین کی گندگی کا گٹر ہے اب اس مسجد کو وسیع کرنے کے لیے اس صحن کو مسجد میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو اس گٹر کو باقی رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
نوٹ: گٹر ایسی جگہ ہے کہ گٹر کے پانی کی نالی مسجد کے اند رسے گذرے گی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر اسے باقی رکھنے کی مجبوری نہیں تو اسے ختم کر دیں اور اگر مجبوری ہے تو خاص اس گٹر اور اس کی نالی والی جگہ میں مسجد کی نیت نہ کریں۔
توجیہ: اگر مسجد بناتے وقت مسجد کے اوپر یا نیچے کے حصے میں مسجد کی نیت نہ کی جائے بلکہ مصالح مسجد کی نیت کر لی جائے تو اسکی اجازت ہے اور موجودہ دور میں لیٹرین یا اس کا گٹر مصالح مسجد میں سے ہے ۔
البحر الرائق (5/271) میں ہے:
وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18] بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفا لمصالح المسجد فإنه يجوز إذ لا ملك فيه لأحد بل هو من تتميم مصالح المسجد فهو كسرداب مسجد بيت المقدس هذا هو ظاهر المذهب وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا يضر في كونه مسجدا لأنه من المصالح
شامی (2/517) میں ہے:
(قوله إلى عنان السماء) بفتح العين، وكذا إلى تحت الثرى كما في البيري عن الإسبيجابي. بقي لو جعل الواقف تحته بيتا للخلاء هل يجوز كما في مسجد محلة الشحم في دمشق؟ لم أره صريحا، نعم سيأتي متنا في كتاب الوقف أنه لو جعل تحته سردابا بالمصالحة جاز تأمل
قال الرافعى ( لم أره صريحا ) الظاهر عدم الجواز وما يأتى متنا لا يفيد الجواز لان بيت الخلاء ليس من مصالحه على ان الظاهر عدم صحة جعله مسجدا بجعل بيت الخلاء تحته كما يأتى انه لو جعل السقاية اسفله لا يكون مسجدا فكذا بيت الخلاء لا نهما ليسا من المصالح تأمل. (فتأملنا فوجدناه في زماننا من المصالح: من محمد رفيق)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved