- فتوی نمبر: 31-288
- تاریخ: 05 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے آج سے دس مہینے پہلے اپنی بیوی کو کہا تھا کہ “اگر میں نے اپنی بیوی کو بچہ جننے کے بعد طلاق نہیں دی تو وہ مجھ پر طلاق ہے، طلاق ہے طلاق ہے” اور بچہ پیدا ہوا جس کی عمر تقریبا 5 ماہ ہے اور ابھی تک دوبارہ وہ الفاظ استعمال نہیں کیے، اب شرع متین میں اس معاملے میں میرے لیے کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں فی الحال کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی لیکن اگر شوہر ایک طلاق دیدے تو شرط پوری ہوجائے گی اور تین طلاقیں واقع نہ ہوں گی اس ایک طلاق کے بعد شوہر رجوع کرسکتا ہے اور اگر شوہر اپنی زندگی میں طلاق نہیں دیتا تو میاں بیوی میں سے کسی ایک کی وفات کے وقت تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔جن کے دنیاوی احکامات مندرجہ ذیل ہوں گے:
1۔شوہر کی موت کی صورت میں بیوی کی عدت عدت طلاق ہوگی یعنی حاملہ نہ ہونے کی صورت میں تین حیض اور حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل (بچہ پیدا ہونے) تک ہوگی۔ اور اگر اس وقت بیوی حاملہ نہ ہو اور اسے حیض آنا بھی بند ہوگیا ہو تو اس کی عدت 3 ماہ یعنی 90 دن ہوگی۔ عدت وفات چار ماہ دس دن نہ ہوگی۔
2۔شوہر کی موت کی صورت میں بیوی کو شوہر کے چھوڑے ہوئے مال میں سے حصہ نہیں ملے گا۔
3۔بیوی کی موت کی صورت میں شوہر کو بیوی کے چھوڑے ہوئے مال سے حصہ نہیں ملے گا۔
توجیہ: اگر طلاق کو کسی کام کے نہ کرنے پر معلق کیا جائے اور اس کام کو نہ کرنے کی کوئی مدت متعین نہ کی جائے تو طلاق اس وقت واقع ہوتی ہے جب اس کام کو کرنا ممکن نہ رہے اس لیے مذکورہ صورت میں جب تک میاں بیوی دونوں زندہ ہیں اس وقت تک طلا ق دینے کا امکان باقی ہے لہٰذا دونوں میں سے کسی ایک کی موت سے پہلے طلاق واقع نہ ہوگی لیکن جب میاں بیوی میں سے کسی ایک کی موت واقع ہوگی تو موت سے پہلے زندگی کے آخری لمحے میں تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
ہدایہ (1/ 244) میں ہے:
«” وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ” وهذا بالاتفاق»
ہدایہ(2/383) میں ہے:
” ولو قال أنت طالق إن لم أطلقك لم تطلق حتى يموت ” لأن العدم لا يتحقق إلا باليأس عن الحياة وهو الشرط كما في قوله إن لم آت البصرة وموتها بمنزلة موته هو الصحيح
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 207 ميں ہے:
«إذا قال لامرأته: أنت طالق إن لم أطلقك أنه لا يقع الطلاق عليها ما لم يثبته إلى آخر جزء من أجزاء حياته؛ لأنه علق الطلاق بشرط عدم التطليق مطلقا، والعدم المطلق لا يتحقق إلا في ذلك الجزء»
بدائع الصنائع (3/200) میں ہے:
إذا طلق امرأته ثم مات فإن كان الطلاق رجعيا انتقلت عدتها إلى عدة الوفاة سواء طلقها في حالة المرض أو الصحة وانهدمت عدة الطلاق، وعليها أن تستأنف عدة الوفاة في قولهم جميعا؛ لأنها زوجته بعد الطلاق إذ الطلاق الرجعي لا يوجب زوال الزوجية، وموت الزوج يوجب على زوجته عدة الوفاة لقوله تعالى {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا} [البقرة: 234] كما لو مات قبل الطلاق، وإن كان بائنا أو ثلاثا فإن لم ترث بأن طلقها في حالة الصحة لا تنتقل عدتها؛ لأن الله تعالى أوجب عدة الوفاة على الزوجات بقوله عز وجل {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن} [البقرة: 234] وقد زالت الزوجية بالإبانة، والثلاث فتعذر إيجاب عدة الوفاة فبقيت عدة الطلاق على حالها.
وإن ورثت بأن طلقها في حالة المرض ثم مات قبل أن تنقضي العدة فورثت اعتدت بأربعة أشهر وعشر، فيها ثلاث حيض، حتى أنها لو لم تر في مدة الأربعة أشهر، والعشر ثلاث حيض تستكمل بعد ذلك
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved