• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نماز کے دوران اونچی آواز میں اللہ اکبر کہنے سے نماز کا حکم

استفتاء

میری بیوی  جب نماز میں ہوتی ہے تو اسکے سامنے اگر  بچہ آجائے  یا نماز میں  کسی چیز سے خلل پیدا ہو تو وہ  اونچی آواز سے اللّٰہ اکبر  کہہ دیتی ہے  کیا اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟

وضاحت مطلوب ہے:  (1) جب بچہ سامنے آ جائے تو آپ کی بیوی اللہ اکبر کیوں کہتی ہے ؟(2)  نماز میں کسی  چیز سے خلل پیدا ہونے   سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت کریں۔

جواب وضاحت: (1) جب بچہ سامنے سے گزرتا ہے تو اللہ اکبر اس لیے  کہتی ہے کہ اسکا خاوند اس بچے کو سامنے سے  ہٹائے۔(2) نماز میں خلل  یا تو بات چیت اونچی ہو رہی ہوتی  ہے  جس سے نماز میں اسکو بھول چوک ہوتی ہے  تو اللہ اکبر کہہ کر  سمجھانا چاہتی ہے کہ  آواز آہستہ کرو۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں امام ابویوسفؒ کے قول کے مطابق  اونچی آواز سے اللہ اکبر کہنے سے نماز فاسد نہیں ہوگی لیکن چونکہ امام ابوحنفیہؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک نماز فاسدہوگی لہٰذا آئندہ احتیاط کرنی چاہیے اور جو نمازیں پہلے اس طرح پڑھ لی ہیں ان کی قضاء کرنے میں اگر دشواری نہ ہو تو ان کی قضاء کرلینی چاہیے ورنہ توبہ واستغفار کرلیں۔

المحیط البرہانی (2/148) میں ہے:

وإذا ‌عرض ‌للمصلي شيء في صلاته فذكر الله تعالى يريد به خطاب الغير نحو أن يزجره عن فعل أو أَمَرهُ به فسدت صلاته في قول أبي حنيفة ومحمد، وقال أبو يوسف لا تفسد صلاته

فتاویٰ تاتارخانیہ (2/220) میں ہے:

إذا عرض للمصلى شئ فذكر الله يريد به خطاب الغير نحو أن يزجره عن فعل أو يأمره فسدت صلاته في قول أبى حنيفة، ومحمد رحمه الله تعالى وقال أبويسف رحمه الله تعالى: لا تفسد صلاته.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved