- فتوی نمبر: 34-237
- تاریخ: 06 جنوری 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > کمیشن کے احکام
استفتاء
زید کی اسٹیٹ ایجنسی ہے۔ انہوں نے عمر اور بکر سے یہ معاہدہ کیا ہے کہ یہ دونوں حضرات جہاں کہیں بھی پراپرٹی کا جو بھی کام کریں گے اس میں زید کو آدھا کمیشن دیں گے اس لیے کہ یہ زید کی ایجنسی کا نام استعمال کرکے کام کرتےہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ زید نے ایک عرصہ قبل خالد صاحب کو پلاٹ فروخت کیا تھا اور اس کے کاغذات خالد صاحب کے نام کروانے کے بعد اپنے پاس ہی رکھے تھے خالد صاحب کو نہیں دیے تھے۔ اس کے بعد بھائی خالد صاحب نے زید صاحب کو کہا کہ میرا پلاٹ فروخت کردیں،زید صاحب نے ان دونوں حضرات (عمر اور بکر صاحب)سے گاہک ڈھونڈنے کا کہا جس پر انہوں نے گاہک تلاش کردیا۔ دونوں پارٹیوں کو دفتر میں بلایا گیا، دونوں نے آپس میں معاملات طے کیے اور 87 لاکھ روپے میں پلاٹ کی ڈیل ہو گئی۔
اس ڈیل میں فریقین سے ایک ایک لاکھ کمیشن طے ہوا جس میں سے معاہدے کے مطابق ایک لاکھ زید صاحب کااور ایک لاکھ عمر صاحب اور بکر صاحب کا حصہ تھا ۔ تینوں نے کمیشن میں سے اپنا اپنا حصہ وصول کر لیا جس کی صورت یہ تھی کہ گاہک نے 16 لاکھ کی رقم بطور ایڈوانس عمر اور بکر صاحب کو دی اور انہوں نے اپنا ایک لاکھ کمیشن رکھ کر آگے 15 لاکھ زید صاحب کو دے دیے جس میں سے زید صاحب نے 14 لاکھ خالد صاحب کو ادا کیے اور ایک لاکھ خود بطور کمیشن رکھ لیا۔
اس کے بعد جب خریدارکے نام پر پلاٹ منتقل کرنے کا مرحلہ پیش آیا تو زید صاحب نے یہ انکشاف کیا کہ یہ پلاٹ آدھا رجسٹری انتقال والا ہے اور آدھا پی ٹی ون ہے۔اور زید صاحب نے یہ بھی کہا کہ میں خود یہ مکمل پلاٹ خریدار کے نام پر انتقال کرواؤں گا اور اس ضمن میں 45 دن کی مہلت بھی لی، خریدار کو اس پلاٹ کے پی ٹی ون ہونے کا علم نہیں تھا۔اس موقع پر عمر صاحب اور بکر صاحب نے زید صاحب سے یہ بھی کہا کہ اگر بعد میں کوئی نقصان ہوا تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ زید صاحب نے اس سلسلے میں کوشش کی لیکن کام نہیں ہوا نیز زید صاحب کے بقول ان کی اپنی کوتاہی بھی تھی کہ انہوں نے مذکورہ کام کرنے میں سستی سے کام لیا، بالآخر جب خریدار کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے پلاٹ خریدنے سے انکار کردیا اور اپنی دی ہوئی پوری ایڈوانس رقم واپس وصول کرنے کا مطالبہ کیا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ زید صاحب نے خالد صاحب سے جو کمیشن کی مد میں رقم وصول کی تھی وہ بھی خریدار کو واپس کردی اور عمر اور بکر صاحب سے بھی کہا کہ تم دونوں بھی اپنی وصول کردہ کمیشن واپس کرکے خریدار کو پورے 16 لاکھ روپے ادا کرو ، جبکہ عمر اور بکر صاحب کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ آپ کی کوتاہی تھی اس لیے آپ ہی ہمیں ایک لاکھ روپے مزید دیں تاکہ ہم خریدار کو پورے 16 لاکھ ادا کریں ، ہم اپنا حصہ واپس نہیں کریں گے۔
سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ رقم کی ادائیگی عمر اور بکر صاحب کے ذمے ہے یا پھر زید صاحب کے ذمے ہے؟
نوٹ: فریقین سے رابطہ کیا گیا تو وہ اس پر متفق ہیں کہ واقعہ یوں ہی پیش آیا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ رقم کی ادائیگی زید صاحب کے ذمے ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں چونکہ زید صاحب نے عمر صاحب اور بکر صاحب سے گاہک ڈھونڈنے کا کہا تھا اور وہ کام یعنی گاہک ڈھونڈنا ان دونوں نے مکمل کردیا تھا اور ایک دفعہ ڈیل مکمل ہوچکی تھی اس کے بعد چونکہ ڈیل زید صاحب کی کوتاہی کی وجہ سے کینسل ہوئی اس لیے عمر صاحب اور بکر صاحب اجرت کے مستحق بنتے ہیں اور ان کی اجرت زید صاحب کے ذمے بنتی ہے کہ ان کا معاملہ زید صاحب کے ساتھ تھا لہٰذا اب اگر گاہک کو رقم واپسی کرنا پڑے تو وہ زید صاحب کے ذمے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved