- فتوی نمبر: 34-262
- تاریخ: 06 جنوری 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > کمیشن کے احکام
استفتاء
میں ایک شخص کے لیے قطر کا ویزا لگوانا چاہتا ہوں۔ جہاں سے یہ ویزا لگتا ہے ان لوگوں کے ساتھ میرا رابطہ ہے۔ ویزے کی اصلی فیس جو افغانستان میں لگاتے ہیں وہ بطور مثال 15 ہزار ریال ہے لیکن ہر کسی کو نہیں لگاتے اور سفارش کے ساتھ واسطے کی اور مزید پیسوں کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اب میں ایک شخص کے لیے اس کا ویزا لگوا سکتا ہوں تو کیا میں 15 ہزار سے اضافی پیسہ لے سکتا ہوں یا نہیں؟ اگر لے سکتا ہوں تو اس شخص کو بتانا ضروری ہے یا نہیں کہ میں نے 15 ہزار میں لگوایا ہے دو ہزار ریال یا ایک ہزار ریال مجھے بطور کمیشن دے دیں یا اس طرح کر سکتا ہوں کہ 15 ہزار میں لگوا کر ان سے کہوں کہ 16 ہزار روپے مجھے دے دیں؟
وضاحت مطلوب ہے: آپ کا ویزا لگوانے والوں سے رابطہ ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا آپ ان کے دفتر میں کام کرتے ہیں؟ یا کیا کام کرتے ہیں؟
جواب وضاحت: ویزا لگوانے والوں سے رابطے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو میں جانتا ہوں اور جب کوئی ویزا لگوانے کی بات کرتا ہے تو ان سے رابطہ کرتا ہوں۔ ان سے میری کوئی خاص دوستی بھی نہیں اور ان کے دفتر میں کام بھی نہیں کرتا میں اپنے مختلف کاروبار کرتا ہوں جیسے پراپرٹی وغیرہ کا کام۔ الغرض میں مختلف کاروبار کرتا ہوں تو اس کو بھی کاروبار سمجھ کر کر لیتا ہوں کہ جب کوئی ویزا لگوانے کی بات کرتا ہے تو جو لوگ ویزا لگواتے ہیں ان سے بات کرتا ہوں۔ کبھی مجھے وہ لوگ فری میں لگا دیتے ہیں کیونکہ وہ مجھے جانتے ہوتے ہیں اور کبھی میں ان کو پیسے دیتا ہوں۔
مزید وضاحت مطلوب ہے: کیا ویزے کا کام بھی آپ کا باقاعدہ کاروبار ہے یعنی عام طور پر لوگوں کو علم ہے یا کبھی کوئی جاننے والا کہہ دے تو کر دیا ورنہ نہیں؟ نیز آپ کو ویزا لگوانے کے لیے عملاً کیا کیا کام کرنے پڑتے ہیں؟ تفصیل سے ذکر کریں۔
جواب وضاحت: باقاعدہ طور پر دکان یا آفس نہیں بنایا لیکن بعض دوستوں کو معلوم ہے کہ میں یہ کام کرتا ہوں اور عملاً کام یہ ہے کہ جو لوگ ویزے لگواتے ہیں ان کی جو اسناد ہوتی ہیں ان کو میں اپنے ای میل کے ذریعے سے مطلوبہ آفس کو بھیجتا ہوں اور اسی طرح فوٹو کاپی وغیرہ کی ضرورت ہو وہ بھی کر لیتا ہوں۔ الغرض جو لوگ ویزا لگواتے ہیں وہ مجھے صرف اپنی اسناد دیتے ہیں باقی ویزا لگوانے والوں سے ہم آہنگی میں کر لیتا ہوں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کے لیے پہلے سے طے کر کے کمیشن لینا تو درست ہے لیکن پہلے سے طے کیے بغیر اور بتائے بغیر اضافی پیسہ (کمیشن) لینا درست نہیں۔
توجیہ : کسی کا کوئی کام کروانے پر اجرت لینا دو صورتوں میں درست ہے۔ یا اس شخص کا وہ کام اجرت لے کر کرنا معروف ہو یا پھر باقاعدہ اجرت کی شرط کر کے کام کرے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ آپ کا اس کام کو اجرت لے کر کرنا معروف نہیں لہٰذا بغیر بتائے آپ کے لیے اجرت لینا درست نہیں۔ نیز مذکورہ صورت ایسی بھی نہیں کہ سائل صرف ویزا والوں کو یہ کہہ دیتا ہو کہ فلاں کا ویزا لگا دیں عملاً کوئی کام نہ کرتا ہو بلکہ عملاً اسے سعی بھی کرنی پڑتی ہے اس لیے مذکورہ صورت جائز ہے۔
نوٹ: اس جواب کا آپ کے رشوت دینے والے معاملے کے جواز سے تعلق نہیں۔
منحۃ الخالق (5/259) میں ہے:
رجل ضاع له شيء فقال من دلني عليه فله كذا فالإجارة باطلة لأن المستأجر له ليس معلوما والدلالة والإشارة ليستا بعمل يستحق به الأجر فلا يجب الأجر وإن قال ذلك على سبيل الخصوص بأن قال لرجل بعينه إن دللتني عليه فلك كذا إن مشى له ودله يجب أجر المثل في المشي لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة إلا أنه غير مقدر بقدر فيجب أجر المثل وإن دله بغير مشي فهو والأول سواء اهـ
امداد الفتاوی (3/362) میں ہے :
سوال : …. (۳) تیل اور چینی اور کپڑے کے تجار مال آڑھت والے کے پاس بھیج دیتے ہیں۔ آڑھت والا مال حفاظت سے اپنے مکان میں رکھتا ہے۔ جب خریدار آتا ہے اس کو فروخت کر کے دو یا ایک فی صدی رقم آڑھت کی جو مقرر ہے لے لیتا ہے۔ آیا اس قسم کی اجرت درست ہو سکتی ہے؟……..(٨) نکاح کی دلالی میں بعض لوگ اجرت دیتے لیتے ہیں یہ درست ہے یا نہیں؟
جواب : … (۳) فی شرح الطريقة المحمدية للخادمى الجزء الرابع منه عن لب الاحياء وأما إعانته على عمل معين إلى قوله أو مباحا فيه تعب بحيث يجوز الاستيجار عليه حل أخذه وهو جعل اه. وفى رد المحتار عن جامع الفصولين للقاضي أن يأخذ ما يجوز لغيره إلى قوله جواز أخذ الأجرة الزائدة وإن كان الحمل مشقته قليلة و نظرهم لمنفعة المكتوب له اه. قلت ولا يخرج ذلك عن أجرة مثله فإن من تفرغ لهٰذا العمل كثقاب اللآلي مثلاً لا يأخذ الأجر على قدر مشقته فإنه لا يقوم بمؤنته ولو ألزمناه ذلك لزم ضياع هذه الصنعة، فكان ذلك أجر مثله اه. اس روایت سے معلوم ہوا کہ چونکہ آڑھت میں عمل اور مشقت موجود ہے اس لیے اجرت درست ہے۔…….(۸) فی شرح الطريقة المحمدية بعد العبارة المذكورة في نمبر ۳ ما نصه أو لا تعب فيه ككلمة أو فعلة من ذي الجاه حرم أخذه إذ لم يثبت فى الشرع تعويض عن الجاه. اس سے معلوم ہوا کہ جہاں اجرت بمقابلہ جاہ کے ہو وہ حرام ہے اور نکاح میں یقیناً قبول قول ساعی موقوف ہے اس کی جاہ پر چنانچہ اگر کوئی غیر ذی جاہ اس سے زیادہ سعی کرے اور کامیابی نہ ہو ہرگز اس کو اس قدر عوض نہ دیا جائے گا اور جاہ شرع میں کوئی چیز قابل اجارہ نہیں، اس لیے یہ دلالی حرام ہے۔
مسائل بہشتی زیور(2/284) میں ہے :
جب وکالت پر اجرت شرط کی ہو اور وکیل نے وکالت پوری کردی تو وہ اجرت کا مستحق بن جاتا ہے۔ اور اگر اجرت کی شرط نہ کی ہو اور وکیل بھی ایسا نہیں ہے جو اجرت پر کام کرتا ہو تو وہ احسان کرنے والا ہوگا اور اس کو اجرت کا مطالبہ کرنے کا حق نہ ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved