- فتوی نمبر: 35-06
- تاریخ: 08 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
ایک مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرے کپڑے استری کر دو بیوی نے کہا کہ میں کرتی ہوں لیکن شوہر نے کہا کہ اگر تم پانچ منٹ میں نہ اٹھیں تو میری طرف سے تمہیں تین طلاق یعنی گھڑی کی سوئی آٹھ پر ہے اور نو پر آنے سے پہلے اٹھ جاؤ۔ بیوی کا کہنا ہے کہ پہلے اس نے مجھ سے پانی کا کہا میں نے پانی لا کر دیا پھر میں لیٹ گئی ۔ میرے پیٹ میں بہت درد تھا اور یہ درد تقریبا آٹھ دن سے تھا ۔ رات کو وہ دردشدت اختیار کر گیا۔ جب شوہر نے کہا کہ استری کر دو میں نے کہا کہ کرتی ہوں ۔تو شوہر نے کہا کہ پانچ منٹ کے اندر نہ اٹھی تو تین طلاق تو میں ان پانچ منٹ کے اندر اٹھی تھی اور بیٹھ گئی لیکن درد کی وجہ سے اٹھا نہ گیا پھر لیٹ گئی، اتنی دیر میں شوہر نہا کر آچکا تھا اور کپڑے استری نہیں ہوئے۔
سائل شوہر کا بھائی ہے ۔ دارالافتاء سے شوہر اور بیوی کا بیان لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے درج ذیل بیان دیا:
بیوی کا بیان :
رات دو بجے شوہر نے کہا کہ کپڑے استری کر دو میں نے کہا کہ پیٹ میں درد ہے اس نے پھر کہا کہ اٹھو تمہارے پاس آٹھ منٹ ہیں اگر نہ اٹھی تو تین طلاق ہو جائے گی ۔میں اٹھ کر بیٹھی لیکن اٹھا نہیں کیا گیا اور ٹائم گزر گیا ۔
شوہر کا بیان :
میں نے یہ کہا تھا کہ آٹھ منٹ کے اندر اگر بیڈ سے نہ اٹھیں استری کرنے کے لیے تو تین طلاق ۔ اسی وقت وہ اٹھی لیکن بیڈ سے نیچے نہیں اتری۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ۔ لہٰذا اب نہ صلح ہوسکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے ۔
توجیہ : طلاق کو اگر کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے ساتھ مشروط کیا جائے تو اس شرط کے پائے جانے کے وقت طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔مذکورہ صورت میں جب شوہر نے تین طلاق کو بیوی کے پانچ یا آٹھ منٹ کے اندر کپڑے استری کرنے کے لیے نہ اٹھنے کے ساتھ مشروط کیا جس کے بعد بیوی اٹھ کر تو بیٹھی لیکن استری کرنے نہ گئی تو شرط پائی گئی اور اسی وقت تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں ۔ واضح رہے کہ چونکہ شوہر کا مقصد یہ تھا کہ بیوی اٹھ کر کپڑے استری کرے لہٰذا صرف اٹھ کر بیٹھ جانے سے شوہر کا مقصود حاصل نہیں ہوا اس لیے وہ شرط پائی گئی جس پر طلاق کو معلق کیاتھا۔
فتاوی ہندیہ (1/ 420) میں ہے :
إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح …..وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق»
فتاوی ہندیہ (1/ 436)میں ہے :
«رجل قال لامرأته: إن لم تقومي الساعة وتجيئي إلى دار والدي فأنت طالق فقامت من ساعتها قبل خروج الزوج ولبست الثياب وخرجت ثم رجعت وجلست حتى خرج الزوج لا يحنث ولو ابتدرها البول فبالت ثم لبست الثياب للخروج لا يحنث ولو بقيا في التشاجر وطال الكلام بينهما لا ينقطع الفور ولو خافت فوت الصلاة فصلت قال نصير – رحمه الله تعالى -: حنث وقال بعضهم: لا يحنث كذا في الظهيرية وبه يفتى كذا في الفتاوى الكبرى.»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved