• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

فاتحہ پڑھنے کے بعد سورت شروع کرنے سے پہلے الحمد للہ رب العالمین دوبارہ پڑھنے کا حکم

استفتاء

امام صاحب  نے سورہ فاتحہ مکمل کرنے کے بعد الحمد للہ رب العالمین پڑھا اس کے فورا بعد کوئی اور سورت ملادی  پھر نماز مکمل کی ۔

اس مسئلہ میں زید اور عمر کا ختلاف ہوگیا۔ زید کا مؤقف یہ  ہے کہ  مذکورہ صورت  میں  نماز ہوگئی ہے  اور سجدہ سہو کی بھی حاجت نہیں ہے۔ زید کی دلیل یہ ہے کہ سورہ فاتحہ  مکمل کرنے کے بعد واجب قراءت کی مقدار بغیر تاخیر کیے مکمل کرلی لہٰذا نماز ہوگئی۔

عمر کا مؤقف یہ ہے  کہ نماز سجدہ سہو کے بغیر درست نہ ہوگی۔ عمر کی دلیل یہ ہے کہ جب امام نے فاتحہ مکمل کرنے کے بعد سورہ فاتحہ کی ایک آیت پڑھی  تو ایسی صورت میں   اگر ایک جملے کا مسئلہ دیکھا جائے تو قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد صرف اللهم صل على محمد  پڑھنے سے سجدہ سہو واجب ہوجاتا ہے اسی طرح ایک رکعت مکمل کرنے کے بعد سورہ فاتحہ پڑھنے کی بجائے التحيات لله والصلوات والطيبات پڑھنے سے بھی سجدہ سہو واجب ہوجاتا ہے کیونکہ  تاخیر ہوئی ہے، لہٰذا یہاں پر بھی ایک کلمہ  (جملہ) پڑھنے سے  سجدہ سہو واجب ہوگا۔  اس پر زید کہتا ہے کہ ایک کلمہ (جملہ) صرف ایک ہی  ہوتا ہے نہ کہ فاتحہ کا تکرار تو اس بارے میں آپ رہنمائی فرمائیں کہ کس کا مؤقف ودلیل درست ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں زید کا بتلایا ہوا مسئلہ درست ہے تاہم ان کی ذکر کردہ دلیل درست نہیں جبکہ عمر کا بتلایا  ہوا نہ مسئلہ درست ہے اور نہ ان کی ذکر کردہ دلیل درست ہے۔

تفصیل اس کی یہ ہے کہ جو  تاخیر موجب سجدہ سہو ہے وہ نہ پوری فاتحہ کا تکرار ہے اور نہ ہی جملہ کا مکمل ہونا ہے بلکہ تین مرتبہ سبحان اللہ کے بقد ر تاخیر موجب سجدہ سہو ہے جوکہ 27 حروف بنتے ہیں مذکورہ صورت میں چونکہ الحمد للہ  …. الخ  کے حروف کی مقدار 27 حروف نہیں ہے بلکہ19 حروف ہے  لہٰذا یہ تاخیر موجب سجدہ سہو نہیں۔

باقی رہی   “اللهم صل على محمد  “والی بات تو اس میں راجح یہ ہے کہ  “وعلى آل محمد” تک پڑھنے  سے سجدہ سہو واجب  ہوتا ہے  جس کے حروف تین مرتبہ “سبحان اللہ” کے حروف کے قریب ہیں۔ نیز التحيات لله پڑھنے میں بھی تین مرتبہ سبحان اللہ کے حروف کے بقدر پڑھنے سے سجدہ سہو واجب ہوجاتا ہے۔

حاشیۃ الطحطاوی (ص:460) میں ہے:

باب سجود السهو …….. يجب سجدتان لترك الواجب …. الخ

وفى حاشيته:  أن لا يؤخر السورة عنها بمقدار اداء ركن.

شامی (2/101) میں ہے:

(قوله قدر اداء ركن) قال شارحها: وذلك قدر ثلاث تسبيحات.

غنیۃ المتملی (ص:330) میں ہے:

(فان زاد) على القدر التشهد (قال المشائخ: إن قال: اللهم صل على محمد ساهيا يجب عليه السجدتا السهو وعن ابى حنيفة) فيما رواه الحسن عنه (ان زاد حرفا فعليه سجدتا السهو. قال المصنف (واكثر المشائخ على هذا) أى: على أنه يلزمه السهو بزيادة حرف واحد، وفى الخلاصة: والمختار أنه يلزم السهو إن قال اللهم صل على محمد، قال البزازي لانه أدى سنة ………. والصحيح أن قدر زيادة الحرف ونحوه غير معتبر فى جنس فيما يجب به سجود السهو وإنما المعتبر قدر ما يؤدى فيه الركن كما فى الجهر فيما يخافت وعكسه وكما في التفكر على الشك ونحوه على ما عرف فى باب السهو.

شامی (1/657) میں ہے:

(‌وتأخير ‌قيام ‌إلى ‌الثالثة بزيادة على التشهد بقدر ركن) وقيل بحرف. وفي الزيلعي: الأصح وجوبه باللهم صل على محمد

(قوله وتأخير قيام إلخ) ‌أشار ‌إلى ‌أن ‌وجوب السجود ليس لخصوص الصلاة على النبي – صلى الله عليه وسلم – بل لترك الواجب وهو تعقيب التشهد للقيام بلا فاصل؛ حتى لو سكت يلزمه السهو كما قدمناه في فصل إذا أراد الشروع. قال المقدسي: وكما لو قرأ القرآن هنا أو في الركوع يلزمه السهو مع أنه كلام الله تعالى، وكما لو ذكر التشهد في القيام مع أنه توحيد الله تعالى. وفي المناقب أن الإمام – رحمه الله – رأى النبي – صلى الله عليه وسلم – في المنام فقال: كيف أوجبت السهو على من صلى علي فقال: لأنه صلى عليك سهوا، فاستحسنه.

(قوله وفي الزيلعي إلخ) جزم به المصنف في متنه في فصل إذا أراد الشروع وقال إنه المذهب واختاره في البحر تبعا للخلاصة والخانية. والظاهر أنه لا ينافي قول المصنف هنا بقدر ركن تأمل، وقدمنا عن القاضي الإمام أنه لا يجب ما لم يقل وعلى آل محمد. وفي شرح المنية الصغير أنه قول الأكثر وهو الأصح قال الخير الرملي: فقد اختلف التصحيح كما ترى، وينبغي ترجيح ما قاله القاضي الإمام.

النہر الفائق (1/324) میں ہے:

وقالوا: ‌لو ‌أتى ‌بالتشهد في قيامه أو قعوده أو سجوده فلا شيء عليه لأنها محل الثناء وهذا يقتضي تخصيص القيام بالأولى، ومن ثم قال في (الظهيرية): إنه في الأولى فلا شيء عليه واختلف المشايخ في الثانية والصحيح أنه لا يجب، وقيده الشارح بما قبل الفاتحة أما بعدها قبل السورة فيجب على الأصح لتأخير السورة.

البنایہ شرح الہدایہ (2/611) میں ہے:

وفي ” الفتاوى الظهيرية ” ‌قرأ ‌التشهد قائما إن كان في الركعة الأولى لا يلزمه شيء، وإن كان في الثانية اختلف المشايخ فيه، والأصح أنه لا يجب

امداد الفتاویٰ (2/464) میں ہے:

سوال: زید نے انفراداً مغرب کی نمازمیں اول رکعت میں الحمد شریف پڑھی کل الحمدپڑھنے کے بعد اس کوخیال آیا کہ جہر سے پڑھنی چاہئے تھی دوبارہ اس نے الحمد شریف جہر سے پڑھی اوربغیر سجدئہ سہو کئے ہوئے سلام پھیردیا۔ آیا اس صورت میں نماز ادا ہوگئی یا نہیں ؟

الجواب : واجب الاعادہ ہے کیونکہ اس نے واجب کا ترک کیا ہے اور وہ واجب جہر نہیں   کیونکہ منفرد پر جہر واجب نہیں بلکہ وہ واجب دوامر ہیں ایک عدم تاخیر سورہ عن الفاتحہ بمقدار ادائے رکن، دوسرا عدم تکرار فاتحہ۔ لأن فی التکرار زیادة واجب وهو موجب لسجود السهو فی مراقی الفلاح لترک واجب بتقدیم أو تأخیر أو زیادة أو نقص. فی الطحطاوی: وأن لایؤخرالسورة عنها بمقدار اداء رکن وفيه ولوکرر الفاتحة أو بعضها فی إحدی الأولیین قبل السورة سجد للسهو.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved