- فتوی نمبر: 32-82
- تاریخ: 13 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > حرمت مصاہرت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی ساس کو دو مرتبہ شہوت کی نیت سے چھوا ہے ، اور اپنی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ رہا ہے، موصوف کے پانچ بچے ہیں جن کی عمریں بالترتیب لڑکی 15 سال ، لڑکا 13 سال ، لڑکی 11 سال، لڑکا 9 سال، لڑکا 4 سال ہیں، از راہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما ئیں کہ آیا شریعت مطہرہ میں اب میاں بیوی کے اکٹھے رہنے کوئی گنجائش ہے یا بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے؟ عین نوازش ہوگی۔
تنقیح:ہاتھ کو اور پنڈلی کو حائل کے بغیر چھوا ہے، اور ساس اس کے پیچھے موٹر سائیکل پر بیٹھی تھی تو داماد نے کہا کہ اپنی چھاتیوں کو میرے ساتھ لگاؤ تو ساس نے اس کو مارنا شروع کر دیا، داماد پہلے چھونے کا معترف تھا اب تمام باتوں کا منکر ہے اور اس نے حلف اٹھایا ہے کہ میں نے اپنی ساس کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔
نوٹ :سائل کی طرف سے شوہر کے اقرار کی ریکارڈنگ مہیا کی گئی ہے، جس میں شوہر نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے، ریکارڈنگ کا خلاصہ یہ ہے کہ شوہر نے کہا کہ “مجھے معاف کر دیں مجھ سے غلطی ہو گئی، میری نیت غلط نہیں تھی لیکن پتہ نہیں کیا ہوا میرے منہ سے غلط الفاظ نکل گئے ، مجھے کوئی چیز کھینچ رہی تھی مجھ سے غلطی ہو گئی” نیز جب شوہر سے رابطہ کیا گیا تو شوہر نے کہا کہ ہمارا مسئلہ حل ہو گیا ہے میں مزید کوئی بیان نہیں دوں گا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر خاوند نے ساس کو شہوت کے ساتھ چھونے کا اقرار کر لیا ہو یا وہ اقرار کر لے اور یا بیوی کا غالب گمان یہ ہو کہ میری والدہ سچ کہہ رہی ہے کہ میرے شوہر نے اسے شہوت سے چھوا ہے تو ان تمام صورتوں میں بیوی کے حق میں دیانۃ حرمت مصاہرت ثابت ہو گئی ہے اور اس کے لیے شوہر کے ساتھ بیوی کی طرح رہنا جائز نہ ہو گا، اور اگر شوہر نے شہوت کے ساتھ چھونے کا اقرار نہ کیا ہو اور نہ ہی وہ آئندہ اقرار کرے اور بیوی کا غالب گمان بھی یہ ہو کہ میرے شوہر نے میری والدہ کو شہوت کے بغیر چھوا ہے تو بیوی کے حق میں دیانۃ بھی حرمت مصاہرت ثابت نہ ہو گی اور اس کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز ہو گا۔
نوٹ: مذکورہ حکم فقہ حنفی کے عام ضابطے کی رو سے ہے تاہم بعض اہل علم نے موجودہ دور کے حالات کے پیش نظر مذکورہ صورت میں ہر حال میں بیوی کو شوہر کے ساتھ رہنے کی گنجائش دی ہے جس کی تفصیل “فقہ اسلامی” مصنف ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب میں ہے، لہذا اگر میاں بیوی اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر الگ ہونے میں مشکلات محسوس کرتے ہوں تو انہیں بعض حضرات کے فتوے پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
درمختار مع ردالمحتار (4/113) میں ہے:
(و) حرم أيضًا بالصهرية (أصل مزنيته) اراد بالزنى الوطء الحرام (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا.
(قوله: وحرم أيضًا بالصهرية أصل مزنيته) قال في البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبًا ورضاعًا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبًا و رضاعًا كما في الوطء الحلال…..(قوله: وأصل ممسوسته إلخ) ؛ لأن المس والنظر سبب داع إلى الوطء فيقام مقامه في موضع الاحتياط هداية. واستدل لذلك في الفتح بالأحاديث والآثار عن الصحابة والتابعين. (قوله: بشهوة) أي ولو من أحدهما كما سيأتي (قوله: بحائل لا يمنع الحرارة) أي ولو بحائل إلخ، فلو كان مانعا لا تثبت الحرمة، كذا في أكثر الكتب، وكذا لو جامعها بخرقة على ذكره، فما في الذخيرة من أن الإمام ظهير الدين أنه يفتى بالحرمة في القبلة على الفم والذقن والخد والرأس، وإن كان على المقنعة محمول على ما إذا كانت رقيقة تصل الحرارة معها بحر.
حیلہ ناجزہ(91) میں ہے:
اگر عورت کا دعویٰ صحیح تھا مگر شہادت معتبرہ پیش نہ ہو سکی اور خاوند نے حلف کر لیا اس واسطے قاضی نے مقدمہ خارج کر دیا یعنی نہ تفریق کی اور نہ زوجیت میں رہنے کا حکم دیا تو اس عورت کے لیےجائز نہیں کہ شوہر کو اپنے نفس پر قدرت دے بلکہ خلع وغیرہ کے ذریعہ اپنے آپ کو اس سے علیحدہ کرنے کی کوشش کرے اور اگر کوئی تدبیر کارگر نہ ہو تو جب تک اپنا بس چلے اس شوہر کو پاس نہ آنے دے ( كما صرح به في الدر المختار و غيره في من سمعت من زوجهاالطلاق الثلاث ولا بينة لها)
فتاوی شامی (449/4) میں ہے:
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved