- فتوی نمبر: 32-94
- تاریخ: 14 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز پڑھنے کا طریقہ
استفتاء
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الْمَوَالِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ:دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُلْتَحِفًا بِهِ وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْنَا : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، تُصَلِّي وَرِدَاؤُكَ مَوْضُوعٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَحْبَبْتُ أَنْ يَرَانِي الْجُهَّالُ مِثْلُكُمْ ، رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا.[صحيح بخارى.370]
میں جابر بن عبداللہ انصاری کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ وہ ایک کپڑا اپنے بدن پر لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے ، حالانکہ ان کی چادر الگ رکھی ہوئی تھی ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے کہا اے ابوعبداللہ ! آپ کی چادر رکھی ہوئی ہے اور آپ ( اسے اوڑھے بغیر ) نماز پڑھ رہے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا ، میں نے چاہا کہ تم جیسے جاہل لوگ مجھے اس طرح نماز پڑھتے دیکھ لیں ، میں نے بھی نبی ﷺ کو اسی طرح ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تھا ۔
سوال یہ ہے کہ:
1۔ صحابی نے دوسرا کپڑا ہونے کے باوجود ایک کپڑے میں نما ز پڑھی ہے تو بظاہر انہوں نے اپنا ستر ڈھکا ہوگا اور کندھے ان کے ننگے ہوں گے لیکن میں نے علماء کرام سے سنا ہے کہ کندھے اگر ڈھکے نہ ہوں تو نماز نہیں ہوتی۔ اس بارے میں بتادیں۔
2۔ٹی شرٹ میں نماز پڑھنے کو کچھ لوگ معیوب سمجھتے ہیں لیکن علماء کہتے ہیں کہ نماز ہوجاتی ہے لیکن ادب کے خلاف ہے تو یہ بھی واضح کریں کہ کیسے ادب کے خلاف ہے؟ کیا اس حوالے سے کوئی حدیث موجود ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔اولاً تو مذکورہ روایت کے پیشِ نظر یہ کہنا ہی درست نہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ کے کندھے ننگے تھے کیونکہ ایک تو اس روایت میں بھی اس کی کوئی تصریح نہیں کہ ان کے کندھے ننگے تھے اور دوسرےبخاری شریف کی دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے اس کپڑے کو اپنی گدّی پر باندھا ہوا تھا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کندھے ڈھکے ہوئے تھے۔
چنانچہ بخاری شریف کی دوسری روایت (رقم الحدیث:352) میں ہے:
عن محمد بن المنكدر قال: صلى جابر في إزار قد عقده من قبل قفاه، وثيابه موضوعة على المشجب، قال له قائل: تصلي في إزار واحد؟ فقال: إنما صنعت ذلك ليراني أحمق مثلك، وأينا كان له ثوبان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم.
ترجمہ: حضرت محمد بن منکدرؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے تہبند باندھ کر نماز پڑھی جسے انہوں نے اپنی گدّی کی طرف سے باندھ رکھا تھا اور آپ کے کپڑے کھونٹی پر لٹکے ہوئے تھے، ایک کہنے والے نے کہا کہ آپ ایک تہبند میں نماز پڑھتے ہیں؟ آپ ؓنے جواب دیا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا کہ تجھ جیسا کوئی احمق مجھے دیکھے (اور جان لے کہ ایک کپڑے میں بھی نماز ہوسکتی ہے جبکہ جسم کا وہ حصہ ڈھکا ہوا ہو جسے نماز میں ڈھانپنے کا حکم ہے)، بھلا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دو کپڑے ہم میں سے کس کے پاس تھے؟
اور ثانیاً اگر کندھے ننگے بھی ہوں تو ایسا نہیں ہے کہ نماز ہوتی ہی نہیں بلکہ نماز ہوجاتی ہے البتہ اگر کوئی بغیر عذر کے اس طرح نماز پڑھے تو نماز مکروہ ہوتی ہے۔
2۔ادب کے خلاف ایسے ہے کہ آج بھی ہمارے عرف میں سرکاری تقریبات یا کسی بڑے سے ملاقات کے لیے جاناہو تو عموماً ٹی شرٹ پہن کر نہیں جایا جاتا بلکہ پورے بازو والی شرٹ پہن کر جایا جاتا ہے نیز اس حوالے سے حدیث بھی ہے۔
چنانچہ صحیح بخاری (1/163) میں ہے:
عن ابن عباس رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أمرت أن أسجد على سبعة، لا أكف شعرا ولا ثوبا.
ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں اور کپڑوں اور بالوں کو نہ سمیٹوں۔
اس حديث ميں “لا أكف شعرا ولا ثوبا” کی تشریح میں حضرات محدثین کرام لکھتے ہیں:
أن النبي عليه السلام، قال: أمرت أن أسجد على سبعة أعظم. قال الطبرى: فيه البيان أنه غير جائز للمرء أن يصلى عاقصا شعره أو كافا ثوبه، يرفع أسافله من الأرض أو يشمر أكمامه، فإن صلى وهو عاقص شعره أو كاف ثوبه، فقد أساء ولا إعادة عليه لإجماع الأمة على ذلك.[شرح صحيح بخاری لابن بطال (2/434) ]
ترجمہ: طبریؒ فرماتے ہیں اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھ کر یا اپنے کپڑے سمیٹ کر نماز پڑھے کہ اپنے کپڑے نیچے والی طرف یعنی زمین کی طرف سے اوپر کی طرف اٹھائے یا اپنی آستین چڑھائے اگر بالوں کا جوڑا باندھ کر یا کپڑے لپیٹ کر نماز پڑھی تو اس نے بُرا کیا اور اس پر امت کے اجماع کی وجہ سے نماز کا اعادہ نہیں ہے ۔
اس عبارت میں آستین چڑھا کر نماز پڑھنے کو “لا اكف شعرا ولا ثوبا” میں شمار کیا گیا اور ہاف بازو ٹی شرٹ میں بھی یہی وجہ بتائی جاتی ہے لہٰذا حدیث کی رو سے ہاف بازو ٹی شرٹ میں نماز پڑھنا بھی مکروہ اور برا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved