- فتوی نمبر: 32-112
- تاریخ: 20 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > سنت اور نفل نمازوں کا بیان
استفتاء
سنت اور نفل نماز کے سجدہ میں سبحان ربي الاعلى تین مرتبہ پڑھنے کے بعد اللهم اني اعوذبك من عذاب جهنم ومن عذاب القبر ایک مرتبہ یا تین مرتبہ پڑھ سکتے ہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
پڑھ سکتے ہیں۔تاہم سنت مؤکدہ چونکہ بعض اعتبار سے فرض کے ساتھ لاحق ہے اس لیے سنت مؤکدہ میں نہ پڑھا جائے تو بہتر ہے۔
الدر المختار مع ردالمحتار (2/261) میں ہے:
وكذا لا يأتي في ركوعه وسجوده بغير التسبيح (على المذهب)، وما ورد محمول على النفل
وفى الشامية: قوله: (محمول على النفل) أي تهجدا أو غيره خزائن. وكتب في هامشه: فيه رد على الزيلعي حيث خصه بالتهجد. اهـ. ثم الحمل المذكور صرح به المشايخ في الوارد في الركوع والسجود، وصرح به في الحلية في الوارد في القومة والجلسة وقال على أنه إن ثبت في المكتوبة فليكن في حالة الانفراد، أو الجماعة والمأمومون محصورون لا يتثقلون بذلك كما نص عليه الشافعية، ولا ضرر في التزامه وإن لم يصرح به مشايخنا فإن القواعد الشرعية لا تنبو عنه
امداد الفتاویٰ (1/329) میں ہے:
اور سنن مؤکدہ بہت احکام میں مشابہ فرض کے ہیں تو اس میں بھی احتیاطا اس کے ساتھ ملحق کہی جاویں گی ۔ پس جن احادیث میں دعاء فی السجود وارد ہے یا تو محمول ہے فعل احیانا پر اور یا نوافل پر۔
عمدۃ الفقہ (2/110) میں ہے:
اور ایسا ہی رکوع وسجدہ میں تسبیح کے سوا اور کچھ نہ کہے اور جو ذکر یا دعائیں ان موقعوں کے لیے آئیں وہ نوافل پر محمول ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved