• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مہر کی ادائیگی کس قیمت کے اعتبار سے ہوگی؟

استفتاء

میری شادی 10/10/2022 کو ہوئی۔نکاح سے پہلے کچھ غیر سنجیدہ باتیں ہوئیں۔نکاح کے بعد میری بیوی میرے ساتھ 02/02/2023تک رہی اور پھر اپنے بھائی کی شادی کی وجہ سے اپنے والدین کے گھر راولپنڈی شادی سے 18 دن پہلے گئی۔اس وقت وہ حاملہ تھی اور حمل کی مدت تین ماہ گزر  چکی تھی۔شادی گزر گئی لیکن پھر وہ کبھی واپس نہیں آئی، رنجش بڑھتی رہی اور اسے لانے کی ہر ممکن کوشش ناکام ہونے کے بعد آخر بچے کی ولادت کا وقت آگیا ۔

بچے کی ولادت 21/08/2023  کو ہوئی، اور بچے کی وفات 08/07/2024 کو ہوئی۔یہ وقت 10 ماہ اور 18 دن کا تھا۔اس دوران صلح کی ہر وہ ممکن کوشش کی جو ہم کر سکتے تھے لیکن میں اسے اور اپنے بیٹے کو اپنے گھر لانے میں ناکام رہا ۔جبکہ اس دوران بارہا انہوں نے مختلف ذرائع سے ہم تک یہ پیغام پہنچایا کہ ہمیں احسن طریقے سے فارغ کیا جائے۔

بیٹے کی وفات کے بعد میرے پاس اب ایسا کوئی طریقہ نہیں تھا جس سے یہ رنجش ختم ہو سکے تو میں نے اپنے بیٹے کی وفات کے 20 دن بعد 28/07/2024 کو اسے ایک طلاق دی۔طلاق دینے کے بعد رجوع کی مدت تک میں نے اپنی بیوی کا انتظار کیا لیکن وہ رجوع کے لیے نہیں آئی اور میرے نکاح سے نکل گئی۔

بات کو مختصر کرتا ہوں کہ میرے نکاح میں حق مہر فاطمی لکھا ہوا ہے۔جس میں سے 10 ہزار میں نے ادا کیا جو کہ اس وقت کے مطابق6 تولہ چاندی کے برابر تھا اور باقی 125 تولہ 3 ماشے ابھی تک ادا نہیں کر سکا۔

نکاح فارم میں نکاح خواں کی مہر کے بارے میں جو تحریر ہے وہ”مہر فاطمی (131 تولہ 3 ماشہ چاندی) بصورت سونا طلائی زیور ہوگیا۔جس میں سے 10 ہزار روپے موقع پر ادا کردیاگیا۔

میں جاننا چاہتا ہوں کہ مجھے یہ مہر کس وقت کے حساب سے ادا کرنا ہے۔

1۔جس وقت نکاح ہوا اس وقت جو چاندی کی قیمت تھی اس وقت کے مطابق؟

2۔جس وقت ایک طلاق دی اس وقت کے مطابق؟

3۔جس وقت وہ نکاح سے نکلی اس وقت کے مطابق؟

4۔یا پھر جب ادا کرنا ہوگا اس وقت جو چاندی کا ریٹ ہوگا اس وقت کے مطابق؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں ادائیگی کے وقت مہر فاطمی کی جو قیمت ہوگی اس کا اعتبار ہوگا۔

بدائع الصنائع (2/277)میں ہے:

وإنما يتقرر مهرا بالتسليم فتعتبر قيمته يوم التسليم

فتاویٰ محمودیہ(12/58)میں ہے؛

سوال: عقد میں مہر نو اوقیے زرِ سرخ خالص مقرر کیا گیا تھا،زرِ خالص یعنی طلاء کی قیمت کا اعتبار زمانہ عقد کا ہوگا یا زمانہ مابعد مطالبہ کی قیمت کا ہوگا؟از روئے احکامِ شرع بیان فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

جواب:جب زرِ خالص کی مخصوص مقدار کو مہر قرار دیا گیا ہے تو اس کا ادا کرنا واجب ہے،اگر سونا ادانہ کیا جائے بلکہ اس کی قیمت دی جائے تو گویا اب زر خالص کو جس کی زوجہ مستحق ہے شوہر اس سے حکماً خرید کر قیمت دے رہا ہے تو اب جو قیمت ہوگی اس کے اعتبار سے معاملہ ہوگا۔یہ دوسری بات ہے کہ بیوی کم قیمت لے لے،اس صورت میں گویا بیوی نے اتنی مقدار معاف کر دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved