• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کلمہ کی قسم اور قرآن کی قسم کھانے کا حکم

استفتاء

کلمہ پڑھ کر قسم کھانا  یا قرآن مجید کی قسم کھا کر یہ کہنا کہ میں یہ کام نہیں کروں گا  اور اس کے بعد وہ کام  کر دے تو کفارہ کیا ہوگا ؟  مثلاً مجھے کلمہ کی قسم  یا قرآن   مجید  کی قسم  ہے یا کلمہ کے پورے الفاظ بول کر کہے کہ آج میں گھر نہیں جاؤں گا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں قرآن مجید کی قسم  کھانے سے اور  ’’مجھے کلمہ کی قسم ہے ‘‘ اور اسی طرح کلمہ کے پورے الفاظ بول کر  کہنے سے قسم ہو جاتی ہے   لہذا اگر یہ  شخص  گھر میں چلا گیا  تو اسے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا ۔  قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مستحق زکوٰۃ لوگوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے یا  دس  مستحق زکوٰۃ لوگوں میں سے ہر ایک کو  پونے دو کلو گندم یااس کی قیمت دیدے ، اگر اتنی وسعت اور طاقت نہ ہو تو تین دن کے مسلسل روزے رکھے ۔

توجیہ:عرف میں ’’ کلمہ ‘‘ سے مراد’’لا الہ اللہ ‘‘ہے اور ’’لاالہ اللہ‘‘کے الفاظ سے قسم کھائی جائے تو دارومدار نیت پر ہوتا ہے البتہ اگر عرف ہو تو پھر بغیر نیت کے بھی قسم ہو جاتی ہے اور ہمارے ہاں کلمہ کی قسم کھانے کا عرف ہے لہذا سوال میں مذکورہ الفاظ سے قسم ہو جائے گی۔

فتاویٰ شامی (5/508) میں ہے:

ولو قال لااله الا الله لا افعل کذالا يکون يمينا الا ان ينوي وکذا قوله سبحان الله  والله اکبرلاافعل کذا لعدم العادة قلت: ولو قال ’’الله الوکيل‘‘لا افعل کذا ينبغي ان يکون يمينا في زماننا لانه مثل الله اکبر لکنه متعارف.

رد المحتار علی الدر المختار (5/503) میں ہے:

“قال الكمال : ولا يخفى أن الحلف بالقرآن الآن متعارف فيكون يمينا .وأما الحلف بكلام الله فيدور مع العرف .وقال العيني : وعندي أن المصحف يمين لا سيما في زماننا .وعند الثلاثة المصحف والقرآن وكلام الله يمين”

رد المحتار علی الدر المختار (5/523) میں ہے:

(وكفارته) هذه إضافة للشرط لأن السبب عندنا الحنث (تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين) كما مر في الظهار (أو كسوتهم بما) يصلح للأوساط وينتفع به فوق ثلاثة أشهر و(يستر عامة البدن)….( وإن عجز عنها ) كلها ( وقت الأداء ) عندنا ….( صام ثلاثة أيام ولاء)

احسن الفتاویٰ(5/498) میں ہے:

سوال: ہمارے علاقہ میں عام دستور  ہے کہ یقین دلانے کے لیے کلمہ پڑھ کر بات کرتے ہیں  اور اس کو قسم  سمجھتے ہیں ، آیا اس  سے قسم ہوجاتی ہے؟

الجواب: قسم کی نیت سے کلمہ پڑھنے سے قسم ہوجاتی ہے ، اور جہاں اس کا عرف ہو جیسا کہ آپ کے علاقہ میں ہے وہاں بدون نیت بھی قسم ہوجائے گی۔

 قال العلامة ابن عابدين رحمه الله  تعالى   : قال في البحر  ولو قال لااله الا الله لا افعل کذالا يکون يمينا الا ان ينوي وکذا قوله سبحان الله  والله اکبرلاافعل کذا لعدم العادة   قلت: ولو قال ’’الله الوکيل‘‘لا افعل کذا ينبغي ان يکون يمينا في زماننا لانه مثل الله اکبر لکنه متعارف.

فتاوی محمودیہ (22/524)  میں  ہے:

“الجواب: قسم کے بعد اس کے خلاف کرنے سے کفارہ لازم ہوتا ہے، وہ یہ کہ دس غریبوں کو دو وقت شکم سیر (پیٹ بھر کر) کھانا کھلائے ی ان کو کپڑا پہنائے، اگر اس کی وسعت نہ ہو تو تین روزے مسلسل رکھے”

مسائل بہشتی زیور(2/161) میں ہے:

“مسئلہ: قرآن کی قسم ‘ کلام اللہ کی قسم‘ کلام مجید کی قسم کھا کر کوئی بات کہی تو قسم ہوگئی”

مسائل بہشتی زیور(2/166) میں ہے:

“مسئلہ: اگر کسی نے قسم توڑ ڈالی تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ دس محتاجوں کو دو وقت کھانا کھلا دے یا کچا اناج دیدے۔ اور ہر فقیر کو پونے دو کلو گندم دینا چاہیے اور اگر جو دے تو اس کے دوگنے دے۔۔۔یا دس فقیروں کو کپڑا پہنا دے”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved