- فتوی نمبر: 32-167
- تاریخ: 10 فروری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مدارس کے احکام
استفتاء
کسی ادارے کے لیے جو قربانی کی کھالیں اکٹھی کی جاتی ہیں ان کھالوں کو اکٹھا کرنے کے لیے جو پیٹرول وغیرہ کا خرچہ آتا ہے وہ ان کھالوں کی قیمت میں سے ادا کیا جا سکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تملیک شخصی کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔
فتاوی محمودیہ(15/568)میں ہے:
سفرائے مدارس کا خرچہ کہاں سے دیا جائے؟
سفراء کا خرچ زاد راہ زکوۃ اور صدقات واجبہ سے نہ دیا جائےبلکہ عطایا سے دیا جائے۔
احسن الفتاوی(7/496)میں ہے:
زکوۃ ، صدقہ فطر اور قربانی کی کھالوں کی رقم مسجد، مدرسہ ، شفا خانہ یا کسی بھی قسم کے رفاہی ادارے کی تعمیر میں لگانا جائز نہیں، کیونکہ ان تمام چیزوں کا فقیر کی ملکیت میں دیناضروری ہے۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل(5/465)میں ہے:
قربانی کی کھالوں یا صدقہ فطرکی رقم کا فقیر یا مسکین کو مالک بنانا ضروری ہے، اس لئے مسجد اور مدرسہ کی تعمیر پر اس رقم کو صرف نہیں کیا جا سکتا اگر کسی مسکین یا غریب شخص کو ان اشیاء کا مالک بنایا اور وہ برضا و رغبت مسجد یا مدرسہ میں چندہ دیدے تو اب اس رقم کی صورت تبدیل ہوگئی اور وہ قربانی کی کھالوں کی قیمت یا صدقہ فطر نہیں رہی، اس لئے اب وہ مسجد یا مدرسہ کی تعمیر میں دیگرچندوں کی طرح صرف کی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved