- فتوی نمبر: 32-170
- تاریخ: 17 مارچ 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > صریح الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میرے شوہر نے تقریبا 10 سال پہلے مجھے یہ الفاظ کہے تھے کہ “میں نے تمہیں طلاق دے دی تم جاؤ” یہ ایک مرتبہ کہا تھا، اس کے بعد اب سے تین سال پہلے انہوں نے کہا کہ “میں نے تمہیں آزاد کر دیا ” اب ان دونوں کے درمیان بھی میرے شوہر نے مجھے یہ کہا تھا کہ “میں تجھے طلاق دے دیتا ہوں”
انہوں نے یہ سب الفاظ مجھے کن حالات میں کہے ہیں یہ آپ نے پوچھا تھا تو ایسا ہے کہ وہ ایسے مرد ہیں جو بیوی کو پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں، میں ذرا سا کچھ پوچھ لوں یا کچھ کہہ دوں تو کہتے ہیں کہ تو کون ہوتی ہے میرے سے پوچھنے والی؟ تیری کیا اوقات ہے؟ اور جب آزاد کا لفظ بولا تھا تب یہ کسی لڑکی کے افیئر میں تھے پوری پوری رات گھر نہیں آتے تھے بلکہ میری غیر موجودگی میں راتوں کو اسے گھر تک لے کر آتے تھے تو جب مجھے پتہ چلا تو اس بات پر بہت زیادہ لڑائی جھگڑے ہونا شروع ہو گئے تھے تو اسی طرح اس وجہ سے ہمارا جھگڑا ہوا تھا اب شریعت کے مطابق میرے لیے كیا حکم ہے؟ میرے چار بچے ہیں اور بچے بھی ابھی چھوٹے ہیں چھوٹا بیٹا تو ساڑھے تین سال کا ہے۔
وضاحت مطلوب ہے: (1)شوہر کا رابطہ نمبر مہیا کیا جائے۔(2) شوہر نے 10 سال پہلے طلاق کے جو الفاظ کہے تھے اس کے بعد کیا رجوع کیا تھا؟ اگر رجوع کرلیا تھا تو کتنے دن بعد کیا تھا؟ (3) تین سال پہلے جو الفاظ “تمہیں آزاد کردیا” کہے تھے اس کےبعد رجوع کیاتھا یا نہیں؟
جواب وضاحت:شوہر کا رابطہ نمبر یہ ہے:*******(2) رجوع اسی دن کرلیا تھا، دوپہر کو طلاق دی تھی اور رات کو رجوع کرلیا تھا۔ (3) جی اگلے دن ہی رجو ع کرلیا تھا۔
شوہر کا بیان:
10 سال پہلے میں نے غصے میں آکر اسے یہی الفاظ کہے کہ “میں نے تمہیں طلاق دے دی تم جاؤ” اور تین سال پہلے “میں نے تمہیں آزاد کر دیا” کے الفاظ کہے تھے اور وہ بھی غصے میں آکر کہے تھے طلاق کی نیت نہیں تھی البتہ ان دونوں کے درمیان میں نے کوئی اور طلاق نہیں دی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں دو رجعی طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اور عدت کے اندر رجوع کر لینے سے سابقہ نکاح برقرار ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر کے دس سال پہلے یہ الفاظ کہنے سے کہ “میں نے تمہیں طلاق دے دی تم جاؤ” ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی اس کے بعد عدت کے اندر رجوع کرلینے سے رجوع ہوگیا اور سابقہ نکاح برقرار رہا اور “تم جاؤ” کے الفاظ عرف میں طلاق کی تفریع کے طور پر بولے جاتے ہیں لہٰذا ان الفاظ سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور نہ ہی ان الفاظ سے سابقہ طلاق بائنہ بنے گی۔ پھر اس کے بعد “میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں” کے الفاظ کہنے سے کوئی طلاق واقع نہیں کوئی کیونکہ یہ الفاظ وعدہ طلاق کے ہیں انشاء طلاق کے نہیں ہیں پھر اس کے بعد تین سال پہلے غصے میں آکر شوہر کے ان الفاظ سے کہ “میں نے تمہیں آزاد کردیا ” ایک رجعی طلاق واقع ہوگئی اور عدت کے اندر رجوع کرلینے سے سابقہ نکاح برقرار رہا۔
نوٹ: آئندہ شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا حق باقی ہے۔
عالمگیری (1/470) میں ہے:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.
بدائع الصنائع(3/283)میں ہے:
أما الطلاق الرجعى فالحكم الأصلى له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك وحل الوطء فليس بحكم اصلى له لازم حتى لا يثبت للحال وانما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فان طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت
تاتارخانیہ (4/470) میں ہے:
وفى الحاوى: قالت باتو نمي باشم فقال ناباشيده گير. قالت: نيكو نيكو طلاق ده تابروم فقال داده گير وبرو قال تقع واحدة إن نوى وقوله برو مع قبله كلام واحد لا يقع ثانيا بقوله برو الا بالنية.
وفيه أيضا: فقال طلاق كرده گير برو هل يقع الطلاق. ان نوى الايقاع تقع واحدة. قيل أليس قوله طلاق كرده گير واحدة وقوله برو واحدة فقال: يراد بهما الواحدة الا أن ينوى ثنتين فيصح.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved