- فتوی نمبر: 35-178
- تاریخ: 10 مئی 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز میں قراءت کرنے کا بیان
استفتاء
اگر فرض نماز کی پہلی رکعت میں بڑی سورت کی کچھ آیتیں پڑھ لی جائیں اور دوسری رکعت میں ایک پوری سورت یعنی سورہ ٔ فیل یا قریش پڑھ لی جائے تو ایسا کرنا مکروہ ہوگا؟
میں مسجد میں امام ہوں اور میں نے یہ ایک عالم سے سنا تھا کہ پہلی رکعت کا درجہ دوسری رکعت سے زیادہ ہوتا ہے اسی طرح ایک پوری سورت کا درجہ چاہے وہ چھوٹی سورت ہو آیات سے زیادہ ہوتا ہے لہٰذا پہلی رکعت کے درجے اور سورت کے درجے کا خیال رکھنا چاہیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
فرض نماز کی پہلی رکعت میں بڑی سورت کی کچھ آیتیں پڑھنا اور دوسری رکعت میں مکمل سورت پڑھنا جائز ہے تاہم افضل یہ ہے کہ ہر رکعت میں مکمل سورت پڑھی جائے۔
فتاویٰ تاتارخانیہ (2/66) میں ہے:
وفي الحجة ولو قرأ في الركعة الأولى من آخر سورة وفي الركعة الثانية من وسط سورة أو سورة قصيرة كما لو قرأ آمن الرسول في ركعة وقل هو الله احد في ركعة لا يكره.
فتاویٰ تاتارخانیہ (2/66) میں ہے:
الأفضل أن يقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب وسورة تامة ولو قرأ بعض السوره في ركعة والبعض في ركعة بعض مشايخنا رحمهم الله تعالى قالوا يكره لانه خلاف ما جاء به الاثر وفي الغياثية وكانهم أرادوا بذلك سورة قصيرة، م: روي عن اصحابنا أنه لا يكره ففي الظهيرية هو الصحيح وفي الخلاصه لا يكره ولكن لا ينبغي ان يفعل ولو فعل لا بأس به.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved