• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسح سے متعلق ايك حدیث کا جواب

استفتاء

عن ثوبان رضى الله عنه قال: بعث رسول الله ﷺ سرية … أمرهم أن يمسحوا على العصائب والتساخين.

حضرت  ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجاہدین کی ایک جماعت بھیجی  انہیں حکم دیا کہ پگڑیوں اور پاؤں کو گرم کرنے والی اشیاء جرابوں اور موزوں پر مسح کریں۔ (سنن ابی داود )

اس حدیث کا جواب چاہیے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ حدیث سے موزوں پر اور پگڑیوں پر مسح ثابت ہوتا ہے نہ کہ جرابوں پر کیونکہ “التساخین” سے مراد موزے ہیں نہ کہ جراب۔ نیز پگڑیوں پر مسح منسوخ ہے لہذا اب پگڑیوں پر مسح جائز نہیں۔

چنانچہ سنن ابی داؤد کی شرح “بذل المجہود ” (1/87) میں ہے:

(والتساخين) كالثماثيل جمع تسخان بفوقية فسين مهملة فخاء منقوطة فنون كعمران وهي الخفاف

وفيه أيضا: قلت: قال الإمام محمد بن الحسن في “الموطأ”: وبهذا نأخذ، لا يمسح على الخمار ولا على العمامة، بلغنا ‌أن ‌المسح ‌على ‌العمامة كان فترك.

المنجد (ص:326) میں ہے:

التساخين: الخفاف شئ كالطيالس ولا واحد لها وقيل واحدها تسخن أو تسخان.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved