- فتوی نمبر: 35-46
- تاریخ: 04 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرا سوال یہ ہے (1)کہ میرا بیٹا مجھ سے وراثت میں اپنا حصہ مانگ رہا ہے تو کیا میں صرف اس ایک کو حصہ دے سکتا ہوں یا سب کو اپنے اپنے حصے دینے پڑیں گے ؟ اگر اس ایک اکیلے کو اس کا حصہ دے دیا جائے تو بعد میں وہ باقی بہن بھائیوں سے وراثت میں اپنا حصہ تو نہیں مانگ سکتا شرعی طور پر اس کا کوئی حق تو نہیں بچے گا ؟
(2)اور دوسرا یہ کہ میں اپنے کسی ایک یا ایک سے زائد بچوں کو اپنی زندگی میں کوئی جگہ یا پلاٹ وغیرہ یا کچھ پیسے وراثتی حصے کے علاوہ تحفے میں دے سکتا ہوں ؟ بعد میں باقی بچے اس میں حصہ کے حقدار تو نہیں ہوں گے اور یہ صرف اسی بچے کا رہے گا جس کو میں نے تحفہ دیا ہوگا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1) کسی اولاد کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ والد سےان کی زندگی میں اپنے حصہ کا مطالبہ کرے اور نہ والد کسی اولادکے ایسے مطالبہ کو پورا کرنے کا پابند ہے تاہم اگر آپ کسی بیٹے کو اس شرط پر اس کا حصہ اپنی زندگی میں ہی دے دیتے ہیں کہ وہ آپ کی وفات کے بعد دیگر ورثاء سے اپنا وراثتی حصہ نہیں لے گا تو ایسا کرنا جائز ہے اور اس صورت میں وہ آپ کی وراثت میں سے اپنے حصے کا مطالبہ نہیں کرسکتا ۔البتہ بہتر یہ ہے کہ یہ معاملہ گواہوں کی موجودگی میں تحریرا ً طے پائے تاکہ بعد میں کسی بھی جھگڑے سے بچا جاسکے ۔
(2) زندگی میں اولاد کو ہدیہ دینے میں افضل یہ ہے کہ سب اولاد میں برابری کی جائے یعنی بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر دیا جائے ۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ وراثت کے مطابق بیٹی کو ایک حصہ اور بیٹے کو دو حصے دیے جائیں ، کسی ایک کو دینا اور باقیوں کو محروم کرنا یا کسی ایک کو بغیر کسی معقول وجہ کے بہت زیادہ دے کر امتیازی سلوک کرنا گناہ کی بات ہے اس سے حدیث مبارکہ میں منع کیا گیا ہے۔تاہم جس اولاد کو کوئی جگہ وغیرہ ہبہ کی جائے تو زبان سے کہنے کے ساتھ ساتھ اس پر قبضہ بھی دے دیا جائے تو وہ اس کا مالک ہوجائے گا اور وہ جگہ آپ کی وراثت میں تقسیم نہیں ہوگی ۔
فتاوی شامی (6/ 655) میں ہے :
«قال القهستاني» واعلم أن الناطفي ذكر عن بعض أشياخه أن المريض إذا عين لواحد من الورثة شيئا كالدار على أن لا يكون له في سائر التركة حق يجوز، وقيل هذا إذا رضي ذلك الوارث به بعد موته فحينئذ يكون تعيين الميت كتعيين باقي الورثة معه كما في الجواهر اهـ. قلت: وحكى القولين في جامع الفصولين فقال: قيل جاز وبه أفتى بعضهم وقيل لا اهـ
صحیح بخاری (رقم الحدیث 2587) میں ہے :
حدثنا حامد بن عمر حدثنا أبو عوانة عن حصين عن عامر قال سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما وهو على المنبر يقول أعطاني أبي عطية فقالت عمرة بنت رواحة لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله قال أعطيت سائر ولدك مثل هذا قال لا قال فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم قال فرجع فرد عطيته
ترجمہ:حضرت عامرؒ سے روایت ہے کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ وہ منبر پر تشریف فرما تھے کہ (میری والدہ نے میرے والد سے مطالبہ کیا کہ وہ مجھے اپنے مال میں سے ایک غلام ہدیہ کریں میرے والد نے ان کے مطالبہ کو ایک دو سال ٹالا لیکن پھر مجبور ہو کر) میرے والد نے مجھے (وہ غلام) ہدیہ ( کرنے کا فیصلہ )کردیا (میری والدہ کو اتنی بات پر تسلی نہ ہوئی اس لیے توثیق کی خاطر میری والدہ )عمرہ بنت رواحہ نے کہا جب تک آپ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ بنا لیں مجھے تسلی نہ ہوگی ۔میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا( میری بیوی عمرہ)بنت ِ رواحہ نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام ہدیہ کر دوں تو میں نے عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو( غلام ) ہدیہ (کرنا طے)کر دیا ہے لیکن اب اے اللہ کے رسول اس نے مجھ سے کہا ہے کہ میں (اس پر) آپ کو گواہ بنا لوں۔ آپﷺ نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنی باقی اولاد کو بھی اسی جیسا ہدیہ (دینے کا فیصلہ )کیا ہے انہوں نے جواب دیا کہ نہیں (اس پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان برابری اور انصاف کرو ۔اس پر میرے والد واپس آگئے اور ہدیہ (کا فیصلہ) واپس لے لیا۔
بدائع الصنائع(5/ 182) میں ہے :
و ذكر محمد رحمه الله في الموطا ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحلی و لا يفضل بعضهم علی بعض و ظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف رحمه الله و هو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتی بالنعمان إلی رسول الله ﷺ فقال إني نحلت ابني هذا كان غلاماً لي … فارجعه، و هذا إشارة إلی العدل بين الأولاد في النحلة و هو التسوية بينهم.
ہندیہ (4/391) میں ہے:
(الباب السادس في الهبة للصغير) ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved