- فتوی نمبر: 32-177
- تاریخ: 04 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
مفتی صاحب میرے تایا جی نے دو شادیاں کی تھیں۔ پہلی بیوی سے ایک بیٹی ہے اور دوسری بیوی سے کوئی اولاد نہیں تھی، پہلی بیوی کو 35 سال پہلے طلاق دی تھی۔ تایا جی کے انتقال سے پہلے ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ والد، ایک بہن اور دو بھائیوں اور دوسری بیگم کا بعد میں انتقال ہوا اب دو بھائی اور بیٹی حیات ہیں اور تایا جی کا ایک مکان ہے اس کی تقسیم کس طرح ہو گی؟
نوٹ: سب سے پہلے تایا جی فوت ہوئے اس وقت ان کے ورثاء میں ایک بیوی، ایک بیٹی، والد، ایک بہن اور چار بھائی تھے پھر اس کے بعد تایا کے والد فوت ہوئے ان کے ورثاء میں ایک بیٹی اور چار بیٹے تھے، پھر اس کے بعد تایا کی بہن فوت ہوئی اس کے ورثاء میں شوہر ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں پھر تایا کا چھوٹا بھائی فوت ہوا اس کے ورثاء میں بیوی، دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، پھر تایا کا بڑا بھائی فوت ہوا اس کے ورثاء میں بیوی، چار بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں پھر تایا کی دوسری بیوی فوت ہوئی اس کے ورثاء میں دو بھائی تھے، بیوی کے والدین پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ کے مرحوم تایا کی کل جائیداد کے 11520 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 5760 حصے (50 فیصد) تایا کی بیٹی کو، 960 حصے (8.3 فیصد) تایا کے موجود بھائیوں میں سے ہر بھائی کو، 120 حصے (1 فیصد) تایا کی بہن کے شوہر کو، 45 حصے (0.4 فیصد) تایا کی بہن کی ہر ایک بیٹی کو، 90 حصے (0.78 فیصد) تایا کی بہن کے ہر ایک بیٹے کو،120 حصے (1 فیصد) تایا کے چھوٹے بھائی کی بیوی کو، 336 حصے (2.9 فیصد) تایا کے چھوٹے بھائی کے ہر ایک بیٹے کو، 168 حصے (1.45 فیصد) تایا کے چھوٹے بھائی کی بیٹی کو ،120 حصے (1 فیصد) تایا کے بڑے بھائی کی بیوی کو،140 حصے (1.2 فیصد) تایا کے بڑے بھائی کے ہر ایک بیٹے کو،70 حصے (0.6 فیصد`) تایا کے بڑے بھائی کی ہر ایک بیٹی کو اور 720 حصے (6.25 فیصد) تایا کی فوت شدہ بیوی کے ہر ایک بھائی کو ملیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved