• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مرحوم کی بیوی ، اولاد اور والدین نہ ہونے کی صورت میں جائیداد کی تقسیم

استفتاء

كيا  فرماتے  ہیں مفتیان کرام  اس مسئلہ کے بارے میں کہ  زید کے تین بھائی اور تین بہنیں ہیں جن میں  سے دو بھائی اور دو بہنیں  زید  کی وفات سے پہلے فوت ہوچکے ہیں اور ایک بھائی (خالد ) اور ایک بہن (فاطمہ) حیات ہیں۔

زید  کا ترکہ ایک 4 مرلہ کا مکان ہے جس کی مالیت تقریباً 30 سے 40 لاکھ روپے ہے، مرحوم کی کوئی اولاد نہیں ہے، مرحوم کے والدین مرحوم سے پہلے فوت ہوچکے ہیں  اور نہ بیوی  ہے، مرحوم نے تین شادیاں کی اور تینوں کو اپنی زندگی میں طلاق دیدی تھی اور تینوں سے کوئی اولاد بھی  نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ:

1۔اس بھائی مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

2۔مرحوم کے بھانجوں اور بھتیجوں کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

3۔کیا جو بھائی مرحوم کی وفات سے پہلے انتقال کرچکے ہیں ان کا ترکہ میں حصہ ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ صورت میں زید مرحوم کی کل مالیت کے 3 حصے کیے جائیں گے جن میں سے دو حصے مرحوم کے بھائی (خالد ) کو اور ایک حصہ مرحوم کی بہن (فاطمہ) کو ملے گا۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

3

1بھائی1بہن
21

2۔مرحوم کے  بھائی کی موجودگی میں  بھتیجے شرعاً  محروم ہوں گے اور بھانجوں کو بھی مذکورہ صورت میں شرعاً  کچھ نہیں ملے گا۔

3۔جو بھائی زیدمرحوم کی وفات سے پہلے انتقال کرچکے ہیں ان کا میراث میں شرعاً  کوئی حصہ نہیں۔

شامی(10/534) میں ہے:

إن شرط الارث وجود الوارث حيا عند موت المورث.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved