• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حضرت ابن عباس کانماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنے سے متعلق ایک روایت کی تحقیق

استفتاء

حضرت طلحہ  بن عبد اللہ بن عوف  بیان کرتے ہیں  کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے ایک میت کا نماز جنازہ پڑھا۔انہوں نے سورہ فاتحہ اور ایک اور  سورت  پڑھی اور (دونوں) بلند آواز سے پڑھیں حتی کہ ہمیں سنائی دیں۔جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ ا اور ان سے اس بارے میں  پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ سنت اور حق ہے۔[صحیح بخاری ، حدیث نمبر 1335(صحیح)]

1۔مذکورہ حدیث کا حوالہ درکار ہے ۔

2۔یہ حدیث درست ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ حدیث کا جو حوالہ سوال میں مذکور ہے  وہ درست ہے یعنی مذکورہ حدیث صحیح بخاری میں موجود ہے ۔اور حدیث نمبر 1335ہے۔

2۔مذکورہ حدیث درست ہے تاہم مذکورہ حدیث میں  سورت فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت پڑھنے کا ذکر نہیں ہے ۔چناچہ مذکورہ حدیث بمع ترجمہ درج ذیل ہے۔

حدثنا محمد بن بشار: حدثنا غندر: حدثنا شعبة، عن سعد، عن طلحة قال: صليت خلف ابن عباس رضي الله عنهما حدثنا محمد بن كثير: أخبرنا سفيان، عن سعد بن إبراهيم، عن طلحة بن عبد الله بن عوف قال: صليت خلف ابن عباس رضي الله عنهما على جنازة، فقرأ بفاتحة الكتاب. قال: ‌ليعلموا ‌أنها ‌سنة.: (صحیح بخاری حدیث نمبر 1335)

ترجمہ: حضرت طلحہ  بن عبد اللہ بن عوف  بیان کرتے ہیں  کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے ایک میت کی نماز جنازہ پڑھی۔انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھی ۔پھرانہوں نے فرمایا:( میں نے یہ اس لئے پڑھی ہے)  تاکہ لوگ جان لیں  یہ سنت ہے۔

نوٹ:حضرت ابن عباسؓ کے نماز جنازہ میں سورت فاتحہ  پڑھنے کو سنت کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز جنازہ میں  دعا کی نیت سے اور دعاؤں کی طرح  سورت فاتحہ کا پڑھنا بھی سنت  سے ثابت ہے ۔بطور دعا کے پڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ دیگر احادیث میں  نماز جنازہ میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ۔

موطا امام مالک ( ص210) میں ہے:

مالك عن نافع ان عبد الله بن عمر كان لا يقرأ في الصلاة على الجنازة

ترجمہ:حضرت ابن عمرؓ نماز  جنازہ میں قرآن نہیں پڑھتے تھے۔

مصنف  ابن ابی شیبہ (2/ 490) میں ہے:

حدثنا حفص بن غياث، عن حجاج، قال: سألت عطاء عن القراءة على الجنازة فقال: ما سمعنا بهذا

ترجمہ:حجاج کہتے ہیں میں نے حضرت عطاء ؒسے نماز جنازہ میں  قرآن پڑھنے کے بارے میں پوچھا  تو انہوں نے فرمایا:ہم نے نماز جنازہ میں قرآن پڑھنے سے متعلق نہیں سُنا۔

3.حدثنا وكيع، عن سعيد، عن عبد الله بن إياس، عن إبراهيم، وعن أبي الحصين، عن الشعبي، قالا: ليس في الجنازة قراءة

ترجمہ:حضرت ابی الحصینؒ  اور امام شعبیؒ    نے فرمایا: نماز جنازہ میں قراءت (قرآن پڑھنا) نہیں ہے۔

مصنف عبد الرزاق (3/ 491 ) میں ہے:

1.عن الثوري، عن أبي هاشم، عن الشعبي قال: التكبيرة الأولى على الميت ثناء على الله، والثانية صلاة على النبي صلى الله عليه وسلم، والثالثة دعاء للميت، والرابعة تسليم

ترجمہ:امام شعبی ؒ  نے فرمایا:نماز جنازہ میں پہلی تکبیر کے بعد اللہ کی ثناء ہے،دوسری کے بعد درود شریف،تیسری کے بعد میت کے لئے دعا اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام  ہے۔

2.عن الثوري، عن حماد، عن إبراهيم قال: سألته أيقرأ على الميت إذا صلى عليه؟ قال: «لا»

ترجمہ: حمادؒ کہتے ہیں  میں نے ابراہیم نخعی ؒ سے پوچھا : نماز جنازہ میں قراءت (قرآن پڑھنا)  ہے؟ انہوں نے فرمایا : نہیں

مصنف عبد الرزاق (3/ 491 ) میں ہے:

6432 – عن معمر، عن أيوب، عن ابن سيرين، كان لا يقرأ في شيء من التكبيرات، وكان يقول: «اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات، والمسلمين والمسلمات، وألف بين قلوبهم، واجعل قلوبهم على قلوب أخيارهم، اللهم ارفع درجته في المهتدين، واخلفه في تركته في الغابرين، اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده»

ترجمہ: ابن سیرینؒ سے مروی ہے کہ وہ نماز جنازہ کی کسی تکبیر میں بھی قرآن نہیں پڑھتے تھے اور وہ یہ دعا پڑھتے تھے” اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات، والمسلمين والمسلمات، وألف بين قلوبهم، واجعل قلوبهم على قلوب أخيارهم، اللهم ارفع درجته في المهتدين، واخلفه في تركته في الغابرين، اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده

اعلاء السنن  (8 / 452) میں ہے:

وقال ابن بطال في شرح البخاري اختلف في قراءة الفاتحة على الجنازة فقرأ بها قوم على ظاهر حديث ابن عباس رضي الله عنه وبه قال الشافعي وكان عمر وابنه وعلي وابو هريرة ينكرونه وبه قال ابو حنيفة ومالك وقال الطحاوى من قرأها من الصحابة يحتمل ان يكون على وجه الدعاء لا التلاوة….

فتاوی  عالمگیری(1/164) ميں ہے:

ولا يقرأ فيها القرآن ولو قرأ الفاتحة بنية الدعاء فلا بأس به وإن قرأها بنية القراءة لا يجوز؛ ‌لأنها ‌محل ‌الدعاء دون القراءة، كذا في محيط السرخسي.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved