- فتوی نمبر: 31-358
- تاریخ: 08 اپریل 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تشریحات حدیث
استفتاء
ایک حدیث میں ارشاد مبارک ہے :
ولا تصاحب الا مؤمنا ولا يأكل طعامك الا تقي “
یعنی مؤمن آدمی کے علاوہ کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور تیرا کھانا صرف متقی آدمی ہی کھائے [ترمذی]
اس حدیث پاک میں ہے کہ تیرا کھانا متقی آدمی ہی کھائے بہت سے رشتہ دار ایسے ہوتے ہیں جو دیندار نہیں ہوتے تو پھر اس حدیث کے مطابق ان کو خود سے اپنے گھر بلانا یا دعوت دینا درست نہیں ہے؟ یا اس حدیث سے کیا مراد ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کسی کو کھانا کھلانے کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں مثلا ضرورت اور حاجت کی وجہ سے کھلانا یا رشتہ داری کی وجہ سے کھلانا یا محض تعلق اور محبت کی وجہ سے کھلانا ، اس حدیث میں محض تعلق اور محبت کی وجہ سے کھانا کھلانا مراد ہے یعنی آدمی کا تعلق اور اس کی محبت متقی لوگوں سے ہی ہونی چاہیے تاکہ تعلق اور محبت کی وجہ سے اگر کسی کو کھانا کھلانا پڑے تو اس کے کھانے والے صرف متقی لوگ ہی ہوں۔
فیض القدیر (6/44) میں ہے:
(ولا يأكل طعام إلا تقي) فالمعنى لا تصاحب الا مطيعا ولا تخالل الا تقيا.
الکوکب الدری(3/269) میں ہے:
(لا يأكل طعامك الا تقى) أى طعام المودة والمحبة.
بذل المجہود فی حل سنن ابی داؤد(13/254) میں ہے:
(ولا يَأْكُلْ طعامَك إلَّا تَقِيٌّ). الطعام على نوعين: إما أن يكون طعام مودة وإخاء، أو حاجة، فإذا كان طعام المودة والإخاء فينبغي أن يؤاكله مؤمنًا، وأما طعام الحاجة فهو عام، فإنه سبحانه وتعالى قال: {وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا} فإنه لا يختص بالمؤمن.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved