- فتوی نمبر: 35-79
- تاریخ: 09 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک شخص کا انتقال ہوگیا ہے ، مرحوم کی کوئی حقیقی اولاد نہیں ہے ایک لے پالک لڑکا ہے جسکی ولدیت حکومتی کاغذوں میں اسی شخص کی ہے، مرحوم کے ورثاء میں دو بھائی، تین بہنیں اور ایک بیوہ ہے ، مرحوم کے والدین مرحوم سے پہلے ہی وفات پاگئے تھے۔ مرحوم کی وراثت 93 ہزار روپے ہے ۔ سوال یہ ہے کہ مرحوم کی وراثت اس کے ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کی وراثت کے اس کی بیوہ اور بہن بھائی حصہ دار ہیں جبکہ لے پالک لڑکا مرحوم کی وراثت میں حصہ دار نہیں ہے۔البتہ اگر تمام ورثاء یا کوئی ایک وارث اپنی رضامندی سے اپنے حصے میں سے لے پالک کو دینا چاہے تو شرعاً منع نہیں ہے۔
مرحوم کی وراثت کی تقسیم اس طرح ہو گی کہ وراثت کے 28 حصے کیے جائیں گے جن میں سے بیوہ کو 7 حصے (25 فیصد)، دو بھائیوں میں سے ہر بھائی کو 6 حصے (21.42 فیصد فی کس) اور تین بہنوں میں سے ہر بہن کو 3 حصے (10.71 فیصد فی کس) ملیں گے۔
اس حساب سے 93,000 میں سے بیوہ کو 23,250 روپے، دو بھائیوں میں ہر بھائی کو 19,928روپے اور تین بہنوں میں سے ہر بہن کو 9,964 روپے ملیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved