• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مالی کو قرض دے کر کمیشن لینا

استفتاء

ہمارا باغ کے پھلوں  کا کا روبار ہے جس میں پھلوں کی بیع سے متعلق مختلف صورتیں پیش آتی ہیں ان میں سے ایک صورت یہ ہے   کہ بیوپاری باغ والے کو پیشگی رقم اس شرط پر دیتا ہےکہ پھلوں کی فروخت پر قرض کی ادائیگی  کے ساتھ ساتھ کمیشن بھی دینی ہوگی،خواہ پھلوں کی خریداری یہی بیوپاری کرے یا کوئی اوربیوپاری،  ہرصورت میں  یہ قرض دینے والا کمیشن لیتا ہے۔کیا یہ کمیشن لینا جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر قرض دینے والا اس بات کی شرط لگائے کہ باغ والا بہرحال پھل میرے پاس ہی لائے گا تو یہ صورت قرض پر نفع ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔

اور اگر اس نے یہ شرط نہ لگائی ہو اور باغ والا ازخود اسی شخص کے پاس پھل لائے کہ یہ بکوا دو تو پھر اس کے لیے کمیشن لینا جائز ہے اور اگر باغ والا اپنا پھل کسی اور سے بکوائے  تو پھر  بیوپاری کے لیے کمیشن لینا جائز نہیں ۔

شامی (9/107) میں ہے:

“قال في التتارخانية: ‌وفي ‌الدلال ‌والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.”

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع (7/394) میں ہے:

“(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض، فأما إذا كانت غير مشروطة فيه ولكن المستقرض أعطاه أجودهما؛ فلا بأس بذلك؛ لأن الربا اسم لزيادة مشروطة في العقد، ولم توجد، بل هذا من باب حسن القضاء، وأنه أمر مندوب إليه قال النبي عليه السلام: «خيار الناس أحسنهم قضاء» .

«وقال النبي عليه الصلاة والسلام عند قضاء دين لزمه للوازن: زن، وأرجح.”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved