- فتوی نمبر: 35/200
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے والد کا نام زید ہے۔ ان کا کافی عرصہ پہلے انتقال ہوچکا ہے ۔ ان کی دو بیویاں تھیں ۔ پہلی بیوی فاطمہ تھیں ان کا حال ہی میں انتقال ہواہے ۔ان سے 6 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں ۔ ان کے والدین پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔ دوسری بیوی زینب حیات ہیں ان سے پانچ بچے (2 بیٹے اور 3 بیٹیاں ) ہیں۔ ہم نے جائیدادتقسیم کرنی ہے۔ آپ ہمیں بتا دیں کہ کس کا کتنا حصہ بنے گا ؟ اور یہ کہ ہماری والدہ جو فوت ہوگئی ہیں ان کا بھی حصہ دینا ہوگا یا وہ ختم ہوگیا؟ براہ کرم مجھے تحریری جواب اسٹیمپ لگا کر عنایت فرمائیں تاکہ میں اور لوگوں کو بھی دکھا سکوں اور یہ وراثت آسانی سے تقسیم ہوسکے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں زید مرحوم کی جائیداد کے کل 5888 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 368 حصے (6.25 فیصد) زینب کو ، 448 حصے فی کس ( 7.610 فیصد ) زینب کے دونوں بیٹوں میں سے ہر ایک کو اور 224 حصے فی کس ( 3.805 فیصد ) ان کی تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ملیں گے ۔ جبکہ فاطمہ کے 6 بیٹوں میں سے ہر ایک کو 494 حصے فی کس ( 8.389 فیصد) اور 4 بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 247 حصے فی کس (4.195 فیصد ) ملیں گے ۔
نوٹ : فاطمہ کو اپنے شوہر زید مرحوم کی وراثت میں سے حصہ ملے گا ان کا وہ حصہ ختم نہیں ہوا لیکن چونکہ وہ خود فوت ہوگئی ہیں لہٰذا ان کا حصہ ان کے بیٹے ، بیٹیوں میں تقسیم ہوگا جوکہ اوپر تقسیم میں کردیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
