- فتوی نمبر: 32-232
- تاریخ: 02 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
مسمی زید فوت ہوئے، ان کی اولاد میں ایک بیٹا (خالد) اور ایک بیٹی مسماۃ ( فاطمہ ) موجود تھے۔مسمی خالد اور اس کی بہن اپنی حیات میں جائیدد غیر منقولہ (جو کہ اراضی زرعی زمین کی شکل میں تھی اس) کو تقسیم کرتے ہوئے دو حصے بھائی اور ایک حصہ بہن کے حساب سے عمل میں لائے جبکہ غیر زرعی اراضی( جسکو علاقہ ہذا میں “کاپ “کے نام سے جاناجاتا ہے) بھائی کے زیر تصرف و قبضہ رہی۔ بہن نےتا حیات کوئی دعوی نہ کیا۔مسمی خالد کی وفات کے بعد خالد کی مذکورہ بہن بھی ورثاء میں شامل تھی۔
علاقہ کی برادری کے جرگہ نے خالد کی وراثت اس کی دو بیٹیوں اور ایک بہن میں تقسیم کرتے ہوئےبہن مذکورہ کو ایک تہائی کا حقدار قرار دیا اس قیاس کے پیش نظر کہ مسماۃ خدیجہ نے انکی حیات میں بھائی مسمی خالد سے غیر زرعی اراضی طلب نہ کی۔دونوں بہن بھائی کی وفات کے عرصہ دراز کےبعد مسماۃ فاطمہ کے ورثاء فاطمہ مرحومہ کی طلب نہ کی ہوئی غیر زرعی اراضی کے حصول کی طلب کرتے ہیں۔
درج بالا صورت میں فاطمہ مرحومہ کے ورثاء اس حصہ وراثت کے حقدار ہوں گے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں خالد کی وراثت میں سے ایک تہائی ان کی بہن کا ویسے ہی بنتا تھا لہٰذا خالد کی وراثت میں سے ایک تہائی بہن کو دینے سے بہن کا اپنے والد زید کی غیر زرعی اراضی سے حصہ ختم نہیں ہوا نیز اسی طرح خالد کی بہن یا اس بہن کے ورثاء کی طرف سے ایک عرصہ تک وراثت کا دعویٰ نہ کرنے سے ان کا وراثت کا حق ختم نہیں ہوتا لہٰذا مذکورہ صورت میں فاطمہ مرحومہ کے ورثاء ان کے حصہ وراثت کا مطالبہ کرنے کے حقدار ہوں گے۔
تکملہ حاشیہ ابن عابدین (8/116) میں ہے:
الارث جبري لَا يسْقط بالاسقاط
البحر الرائق (5/243) میں ہے:
لو قال وارث تركت حقي لا يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك
الاشباہ والنظائر (ص:272) میں ہے:
ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، وبيان أن الساقط لا يعود:لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك
تکملہ حاشیہ ابن عابدین(8/ 98) میں ہے:
«ثم اعلم أن عدم سماع الدعوى بعد مضي ثلاثين سنة أو بعد الاطلاع على التصرف ليس مبنيا على بطلان الحق في ذلك، وإنما هو مجرد منع للقضاة عن سماع الدعوى مع بقاء الحق لصاحبه، حتى
لو أقر به الخصم يلزمه، ولو كان ذلك حكما ببطلانه لم يلزمه ويدل على ما قلناه تعليلهم للمنع بقطع التزوير والحيل كما مر فلا يرد ما في قضاء الاشباه من أن الحق لا يسقط بتقادم الزمان»
فتاویٰ محمودیہ (30/78) میں ہے:
سوال:- خواجہ کی تین لڑکیاں ہندہ وغیرہ اور ایک لڑکا تھا۔خواجہ کا تو انتقال ہوگیا ہندہ وغیرہ لڑکیاں اور باب اللہ لڑکا کو چھوڑ گیا۔ سارا ترکہ باب اللہ کے نام ہوگیا لیکن اس کی بہنیں ہندہ وغیرہ نے اپنا حق نہیں لیا حتیٰ کہ اپنے بھائی باب اللہ سے سب سے پہلے انتقال کرگئیں۔ بعدہٗ باب اللہ دولڑکیاں اور ایک لڑکا سرور کو چھوڑ کر انتقال کرگئے۔ باب اللہ کا سب ترکہ ان کے لڑکے سرور کے نام ہوگیا بعدہ سروربھی دو بہنیں اور ایک بیوی چھوڑ کر انتقال کرگئے اب سرور کے ترکہ میں اس کی پھوپھیاں ہندہ وغیرہ کے لڑکے حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔
دریافت طلب یہ امر ہے کہ سرور کی پھوپھیوں ہندہ وغیرہ نے جبکہ اپنے بھائی باب اللہ سے اپنی زندگی میں اپنا حق نہیں لیا اور باب اللہ کا سارا ترکہ ان کے لڑکے سرور کے نام ہوچکا ہے تو کیا پھوپھیوں کے مرجانے کے بعد بھی ان کا حق باقی ہے اور ان کے لڑکے شرعاً حصہ لے سکتے ہیں اگر لے سکتے ہیں تو کیا؟
جواب: محض نہ لینے سے وارث کی ملک مال مورث سے زائل نہیں ہوتی لہٰذا اگر ہندہ وغیرہ نے باب اللہ کو اپنا حصہ ہبہ کرکے باقاعدہ قبضہ کرادیا تھا تب تو ہندہ کے ورثہ کو باب اللہ کے ورثہ سے اس کے لینے کا حق حاصل نہیں ۔اور اگر باقاعدہ ہبہ نہیں کیا تو پھر حق حاصل ہے۔ جس کی مقدار خواجہ کے انتقال سے اس وقت تک نام بنام موتیٰ کی ترتیب اور ورثہ کی تفصیل معلوم ہونے پر تحریر کی جاسکتی ہے لوقال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقه اذ الملک لا یبطل بالترک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved