• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ کہناکہ ’’آپ اپنی نبوت میں لا شریک ہیں‘‘

استفتاء

جمعۃ المبارک کو اپنی مسجد کے خطیب محترم نے یہ بات کہی   کہ ایک عالم نے کہا جس طرح اللہ تعالی اپنی وحدانیت میں لاشریک ہیں  رسول اللہ ﷺ اپنی نبوت میں لا شریک ہیں،سوال یہ ہے کہ:

1-لا شریک کا لفظ خالق کے علاوہ مخلوق کے لیے استعمال ہوسکتا ہے؟کیونکہ قرآن و سنت میں یہ لفظ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے استعمال نہیں ہوا۔

2-کیا اس سے سورۃ البقرہ کے آخری رکوع کی آیت نمبر:285  (نہیں ہم فرق کرتے کسی ایک اس کے رسولوں میں سے)کی غلط تشریح نہیں ہوتی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1-لا شریک کامعنی: حصہ دارنہ ہونا ہے،لہذا مخلوق میں سے جس کا کسی خاص وصف میں کوئی شریک نہ ہو اس کے لیے  یہ لفظ استعمال ہوسکتا ہے اور چونکہ آپﷺ کے ختم نبوت والے وصف میں کوئی اور آپﷺ کا شریک نہیں لہذا اس لحاظ سے آپﷺ کے لیے مذکورہ لفظ استعمال کرنا درست ہے۔لیکن چونکہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے عوام میں بعض اوقات تشویش پیدا ہوجاتی ہے اس لیےاچھا یہ ہے کہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے احتیاط کی جائے۔

2-مذکورہ الفاظ سورۃ البقرۃ کی مذکورہ آیت کے خلاف نہیں کیونکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایمان لانے میں رسولوں میں تفریق نہیں کرتے کہ بعض پر ایمان لائیں اور بعض پر ایمان نہ لائیں بلکہ ہم سب پر ایمان لاتے ہیں۔اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ سب نبیوں کا درجہ ایک جیسا ہے بلکہ بعض نبی درجے میں بعض نبیوں سے اوپر ہیں جیسا کہ ’’تلک الرسل فضلنا بعضهم  علی بعض‘‘میں مذکور ہے۔

روح المعانی(2/66)آیت نمبر:285میں ہے:

لا نفرق بين أحد من رسله …. أي يقولون، أو يقول: لا نفرق بين رسل الله تعالى بأن نؤمن ببعض ونكفر ببعض كما فعل أهل الكتابين بل نؤمن بهم جميعا ونصدق بصحة رسالة كل واحد منهم وقيدوا إيمانهم بذلك تحقيقا للحق وتنصيصا على مخالفة أولئك المفرقين من الفريقين بإظهار الإيمان بما كفروا به فلعنة الله على الكافرين.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved