• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زندگی میں اپنی میراث تقسیم کرنا

استفتاء

محترم مفتی صاحب میرے بڑے بھائی  زید صاحب جن کی عمر اس وقت 63 برس کے قریب ہے۔ان کی ایک بیوی، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں اور سب بچے شادی شدہ ہیں۔2013 میں انہوں نے اپنی سب جائیداد اور کاروبار جس کی مالیت کل تین کروڑ بارہ لاکھ چھیاسی ہزار سات سو چوّن (31286754) روپے تھی اپنے دونوں بیٹوں کے نام منتقل کر دی اور خود کاروبار کے نفع کا دس فیصد حصہ رکھا اور بیٹوں کو 45 فیصد فی کس حصہ دیا اور دونوں بچیوں کو دس لاکھ فی کس ادا کرنے کا دونوں بیٹوں کو کہاجبکہ ان کا حصہ دیکھا جائے تو چونتیس لاکھ اکیس ہزار نوسو اٹھانوے  (3421998) روپے بنتا تھا۔

بیٹوں نے دس لاکھ بھی ابھی تک اپنی بہنوں کو ادا نہیں کیے،اب جبکہ بچے رقم ادا کرنا چاہتے ہیں تو والد صاحب نے بچوں کو کہا ہے کہ وہ بچیوں کو تیس لاکھ فی کس ادا کریں جبکہ 2013 کو ان کا حصہ 3421998 بنتا تھا۔یہ معاملہ ایک دوست کو معلوم ہوا تو انہوں نےفرمایا کہ آپ نے اپنی جائیداد 2013 میں درست تقسیم نہیں کی تھی آپ کو ان کا حصہ جو کہ 3421998 بنتا تھا اسی وقت ادا کرنا چاہیے تھا اب آپ موجودہ وقت  کی قیمت کے مطابق رقم ادا کریں۔بچے اپنے کاروبار کو 2013 سے چلا رہے ہیں اس دوران انہوں نے غیر منقولہ جائیداد فروخت بھی کی اور نئی بھی خریدی اس وقت ان کی جائیداد کل سات کروڑ چالیس لاکھ پانچ سو چوراسی (70400584) روپے ہےاور بیٹیوں کا فی کس حصہ موجودہ وقت کے مطابق ستتر لاکھ (7700000) روپے بنتا ہے۔بچے اپنے والد سے کہتے ہیں کہ وہ 2013 کی جائیداد کے مطابق 3421998 روپے فی کس اپنی بہنوں کوادا کر دیں گے لیکن فی الوقت وہ نقدادا کرنے سے قاصر ہیں لہذا وہ 30 ماہ کی کمیٹی ڈالیں گے اور جب بھی وہ نکلے گی وہ بہنوں کو ادا کر دیں گے ۔اور جب ان کو کہا گیا کہ وہ موجودہ ریٹ کے مطابق رقم ادا کریں تو وہ  کہتے  ہیں کہ ہم 2013  کے وقت کے مطابق ادا کریں گے اور موجودہ وقت کے مطابق ادا نہیں کر سکتے۔زید صاحب کی دونوں بیٹیوں کو اس تقسیم کے متعلق کوئی علم نہ پہلے تھا نہ اب ہےیہ سارا معاملہ باپ اور دونوں بیٹوں کے درمیان ہوا ہے زید  صاحب کی موجودہ حالت میں یہ کیفیت ہے کہ وہ بیٹوں کی کمیٹی ڈال کر 3421998 روپے فی کس دونوں بیٹیوں کو ادا کرنے پر راضی اور خوش ہیں ۔زید صاحب اپنی اور اپنی بیوی کی ضرورت اپنے کاروبار کے دس فیصد نفع سے پوری کر رہے ہیں اور بیٹیاں اپنے اپنے گھروں میں اپنی فیملی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں ۔زیدصاحب کی ملکیت میں اس وقت صرف 687789 روپے ہیں باقی سب کچھ بیٹوں کی ملکیت میں ہے۔شرعی طور پر اب کیا کیفیت ہے رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں زید صاحب اور اس کے بیٹے مل ملا کر یا کمیٹی ڈال کر اپنی بیٹیوں کو فی کس 3421998 روپے دینا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے موجودہ مالیت کے لحاظ سے دینا ضروری نہیں کیونکہ موجودہ مالیت میں بیٹوں کی محنت بھی شامل ہےاور بیٹے اپنی محنت میں سے بیٹیوں (اپنی بہنوں) کو کچھ دینے کے پابند نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved