- فتوی نمبر: 32-249
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
آج سے دس سال پہلے میری شادی مرحوم زید سے ہوئی، شادی کے دو سال بعد ہی میرے شوہر کا انتقال ہوگیا، میرے شوہر کے ترکہ میں دیگر چیزوں کے علاوہ ایک گھر بھی تھا جو کہ ****کراچی میں واقع ہے۔ میں اپنے شوہر کی دوسری بیوہ ہوں ان کی پہلی بیوی اور بیٹے اس گھر کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ برائے مہربانی قانون اور شرع کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ گھر فروخت کرنے کی صورت میں ان کی پہلی بیوی، صاحبزادوں اور میرا شرعی طور پر کتنا حصہ بنے گا؟وارثوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
(۱) زینب (بڑی بیگم ) (۲) خالد(بیٹا) (۳) بکر (بیٹا) (۴) عمر (بیٹا) (۵) فاطمہ (چھوٹی بیگم)
وضاحت مطلوب ہے: (۱) کیا شوہر کی وفات کے وقت ان کے والدین حیات تھے؟ کیا وفات کے وقت مذکورہ مکان شوہر ہی کی ملکیت تھا انہوں نے کسی کو دیا تو نہیں تھا؟
جواب وضاحت: (۱) مرحوم زید کے والدین ان کی وفات سے کافی عرصہ قبل ہی انتقال کرچکے تھے۔ یہ گھر مرحوم زید نے اپنی کمائی اور اپنے بل بوتے پر تعمیر کروایا تھا جس میں ان کے والدین کے ترکے اور اثاثے کا کوئی تعلق نہیں۔(۲) مرحوم کے انتقال کے وقت مذکورہ مکان ان کی ملکیت تھا اور K.D.A کی رجسٹرڈ (Sale-Deed) میرے شوہر کے نام پر موجود ہے ۔ انتقال کے وقت مرحوم شوہر کی دونوں بیویاں اور تینوں بیٹے جوکہ اس وقت غیر شادی شدہ تھے اور مرحوم کی پہلی بیوی سے تھے اسی گھر میں رہائش پذیر تھے۔ میں فاطمہ مرحوم کی دوسری بیوی ہوں اور میری کوئی اولاد نہیں ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کی وراثت کے کل 48 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 3،3 حصے (6.25فیصد) مرحوم کی ہر ایک بیوی کو اور 14،14 حصے (29.16 فیصد) مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
8×6=48
| دو بیویاں | 3 بیٹے |
| ثمن | عصبہ |
| 1 | 7 |
| 1×6 | 7×6 |
| 6 | 42 |
| 3+3 | 14+14+14 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved