• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسلمان عورت کا عیسائی عورت سے جسم کی مالش کروانا

استفتاء

1۔عیسائی عورت سے مسلمان عور ت کے جسم کا پردہ کتنا ہے؟

2۔کیا مسلمان عورت عیسائی عورت سے جسم کی مالش کرواسکتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ اس بارے میں دو قول ہیں:

(۱) ایک قول  یہ ہے کہ ایک مسلمان عورت کا جتنا پردہ ایک غیر محرم مرد سے ہے اتنا ہی پردہ ایک غیر مسلم عورت سے ہے تاہم اس میں چہرہ بھی داخل ہے یا نہیں؟ اس کی ہمیں  فی الحال تحقیق نہیں۔

(۲) دوسرا قول یہ ہے کہ جتنا پردہ ایک مسلمان عورت کا دوسری مسلمان عورت سے ہے اتنا ہی غیر مسلم عورت سے ہے یعنی ناف سے لیکر گھٹنوں تک  کا تو پردہ ہے اس کے علاوہ جسم کا پردہ نہیں ہے۔

2۔ پہلے قول کے مطابق مسلمان عورت کا غیر مسلم عورت سے مالش کروانا جائز نہیں الا یہ کہ کوئی سخت مجبوری ہو اور مسلمان عورت دستیاب نہ ہو اور دوسرے قول کے مطابق ناف  سے لے کر گھٹنوں تک کی مالش تو کسی سخت مجبوری کے بغیر نہیں کرواسکتی، باقی جسم  کی کرواسکتی ہے۔

الدر المختار مع ردالمحتار (9/612) میں ہے:

(‌والذمية ‌كالرجل الأجنبي في الأصح فلا تنظر إلى بدن المسلمة) مجتبى

(قوله ‌والذمية) ‌محترز قوله المسلمة (قوله فلا تنظر إلخ) قال في غاية البيان: وقوله تعالى {أو نسائهن} [النور: 31] أي الحرائر المسلمات، لأنه ليس للمؤمنة أن تتجرد بين يدي مشركة أو كتابية اهـ ونقله في العناية وغيرها عن ابن عباس، فهو تفسير مأثور وفي شرح الأستاذ عبد الغني النابلسي على هدية ابن العماد عن شرح والده الشيخ إسماعيل على الدرر والغرر: لا يحل للمسلمة أن تنكشف بين يدي يهودية أو نصرانية أو مشركة إلا أن تكون أمة لها كما في السراج، ونصاب الاحتساب ولا تنبغي للمرأة الصالحة أن تنظر إليها المرأة الفاجرة لأنها تصفها عند الرجال، فلا تضع جلبابها ولا خمارها كما في السراج اهـ

الدر المختار مع ردالمحتار (9/630) میں ہے:

وإذا ‌بلغ ‌الصبي ‌أو ‌الصبية عشر سنين يجب التفريق بينهما بين أخيه وأخته وأمه وأبيه في المضجع……. وفيه الغلام إذا بلغ حد الشهوة كالفحل والكافرة كالمسلمة

(قوله والكافرة كالمسلمة) ‌يحتمل ‌أن ‌يكون ‌المراد أن نظر الكافرة إلى المسلمة كنظر المسلمة إلى المسلمة، وهو خلاف الأصح الذي قدمه المصنف بقوله والذمية كالرجل الأجنبي في الأصح إلخ، ويحتمل أن يكون المراد أن الرجل ينظر من الكافرة، كما ينظر إلى المسلمة ومقابله ما في التتارخانية روي أنه لا بأس بالنظر إلى شعر الكافرة

الدر المختار (9/606) میں ہے:

(وما حل نظره) مما مر من ذكر او انثى (حل لمسه)

روح المعانی(18/146) میں ہے:

وأخرج سعيد بن منصور وابن المنذر وابن المنذر والبيهقي في سننه عن عمر رضي الله تعالى عنه أنه كتب إلى أبي عبيدة رضي الله تعالى عنه أما بعد فإنه بلغني أن نساء من نساء المسلمين يدخلن الحمامات مع نساء أهل الشرك فانه من قبلك عن ذلك فإنه لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تنظر إلى عورتها إلا من كانت من أهل ملتها. وفي روضة النووي في نظر الذمية إلى المسلمة وجهان أصحهما عند الغزالي أنها كالمسلمة وأصحهما عند البغوي المنع، وفي المنهاج له الأصح تحريم نظر ذمية إلى مسلمة، ومقتضاه أنها معها كالأجنبي واعتمده جمع من الشافعية، وقال ابن حجر: الأصح تحريم نظرها إلى ما لا يبدو في المهنة من مسلمة غير سيدتها ومحرمها ودخول الذميات على أمهات المؤمنين الوارد في الأحاديث الصحيحة دليل لحل نظرها منها ما يبدو في المهنة. وقال الإمام الرازي: المذهب أنها كالمسلمة، والمراد بنسائهن جميع النساء. وقول السلف محمول على الاستحباب وهذا القول أرفق بالناس اليوم فإنه لا يكاد يمكن احتجاب المسلمات عن الذميات.

معارف القرآن ، مفتی شفیع صاحبؒ (6/404) میں ہے:

نسائهن مسلمان عورتوں کی قید سے یہ معلوم ہوا کہ کافر مشرک عورتوں سے بھی پردہ واجب ہے وہ غیر محرم مردوں کے حکم میں ہیں ۔ ابن کثیر نے حضرت مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان عورت کے لئے جائز نہیں کہ کسی کافر عورت کے سامنے اپنے اعضاء کھولے لیکن احادیث صحیحہ میں ایسی روایات موجود ہیں جن میں کافر عورتوں کا ازواج مطہرات کے پاس جانا ثابت ہے اس لئے اس مسئلہ میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہے بعض نے کافر عورتوں کو مثل غیر محرم مردوں کے قرار دیا ہے بعض نے اس معاملہ میں مسلمان اور کافر دونوں قسم کی عورتوں کا ایک ہی حکم رکھا ہے کہ ان سے پردہ نہیں ۔ امام رازی نے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ لفظ ‌نسائهن میں تو سبھی عورتیں مسلم اور کافر داخل ہیں اور سلف صالحین سے جو کافر عورتوں سے پردہ کرنے کی روایات منقول ہیں وہ استحباب پر مبنی ہیں ۔ روح المعانی میں مفتی بغداد علامہ آلوسیؒ نے اسی قول کو اختیار فرما کر کہا ہے۔

هذا القول أرفق بالناس اليوم فإنه لا يكاد يمكن احتجاب المسلمات عن الذميات. (روح المعانی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved