مجہول زمین کے بدلے زمین بیچنا
- فتوی نمبر: 26-05
- تاریخ: 08 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > خرید و فروخت > پراپرٹی کی خرید و فروخت کے احکام
استفتاء
میرےایک قریبی رشتہ دار نے سودی قرضے سے تنگ آکر مجھے کہا کہ مجھے اپنی زمین دے دو میں اسے فروخت کر کے پیسے استعمال کر لوں گا اور اس زمین کے بدلے آپ کوبعد میں اتنی ہی زمین پشاور یا چارسدہ میں خریدکر دے دوں گا چنانچہ اس نے میری زمین فروخت کر دی لیکن 2016 ءسے اب تک نہ اس نے زمین واپس دی اور نہ ہی اس زمین کی قیمت جو کہ 5 لاکھ پچاس ہزار بنتی ہے ادا کر پایاچونکہ زمین فروخت کرتے وقت کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا تو کیا اب ہم زمین کے بدلے زمین یا اس کی موجودہ قیمت کا مطالبہ کر سکتے ہیں ؟یا 2016ء میں جس قیمت پر زمین فروخت ہوئی تھی اسی پر اکتفا کریں ؟ شرعی لحاظ سے فتویٰ چاہیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ باہمی رضامندی سے مذکورہ زمین کے بدلے زمین تو لے سکتے ہیں لیکن موجودہ قیمت کے حساب سے رقم نہیں لے سکتے ، البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ساڑھے پانچ لاکھ روپے کی جتنی چاندی مذکورہ زمین کو فروخت کرنے کے وقت آتی تھی اتنی چاندی آپ لے لیں۔
توجیہ:مذکورہ صورت قرض کی بنتی ہے اور اگرچہ قیمی اشیاء میں قرض کا معاملہ جائز نہیں لیکن اگر کوئی ایسا معاملہ کر لے اور اس کو استعمال کر لے تو اس صورت میں قرض لینے والے کے ذمے اس قیمی شے کی قیمت لازم ہوتی ہے ۔
درمختارمع ردالمحتار(7/407)میں ہے:
“(وصح) القرض (في مثلي) هو كل ما يضمن بالمثل عند الاستهلاك (لا في غيره) من القيميات كحيوان وحطب وعقار وكل متفاوت لتعذر رد المثل. واعلم أن المقبوض بقرض فاسد كمقبوض ببيع فاسد سواء
قال ابن عابدين: (قوله كمقبوض ببيع فاسد) أي فيفيد الملك بالقبض كما علمت وفي جامع الفصولين القرض الفاسد يفيد الملك حتى لو استقرض بيتا فقبضه ملكه، وكذا سائر الأعيان وتجب القيمة على المستقرض”
بدائع الصنائع(4/585)میں ہے:
’’المشتري شراء فاسدا إذا باع المشتري أو وهبه أو تصدق به بطل حق الفسخ، وعلى المشتري القيمة أو المثل‘‘
ردالمحتار(7/53)میں ہے:
’’وفي الذخيرة عن المنتقى إذا غلت الفلوس قبل القبض أو رخصت. قال: أبو يوسف، قولي وقول أبي حنيفة في ذلك سواء وليس له غيرها، ثم رجع أبو يوسف وقال: عليه قيمتها من الدراهم، يوم وقع البيع ويوم وقع القبض. اهـ. وقوله: يوم وقع البيع أي في صورة البيع، وقوله: ويوم وقع القبض أي في صورة القرض كما نبه عليه في النهر في باب الصرف‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved