- فتوی نمبر: 32-393
- تاریخ: 09 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > جن لوگوں سے نکاح کرنا ناجائز ہے
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں زید نےایک عورت مسماۃ حلیمہ کا دودھ پیا جس کے دودھ میں حلیمہ کی بیٹی آمنہ بھی زید کے ساتھ شریک تھی جس کے نتیجے میں زید اور آمنہ آپس میں دودھ شریک بہن بھائی بن گئے ان کا آپس میں نکاح حرام ہے۔ازروئے شریعت سوال یہ ہے کہ زید، آمنہ کی کسی دوسری چھوٹی یا بڑی بہن کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ یاآمنہ زید کے علاوہ اس کے کسی دوسرے چھوٹے بڑے بھائی کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟
اصولی سوال یہ ہے کہ حرمت رضا عت کا تعلق ذات کے ساتھ ہے یا اصول اور فروع کے ساتھ ہے کہ دودھ پینے سے دوسرے بھائی اور بہن بھی حرام ہو جائیں گے یاصرف جس کے ساتھ دودھ پیا ہے وہ صرف حرمت میں شامل ہوگا؟نیز یہ بھی بتائیں کہ زید کے دوسرے بھائی آمنہ کے علاوہ اس کے بہنوں سے یا آمنہ کی بہنیں زید کے علاوہ اس کے بھائیوں سے نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں حلیمہ کی کسی بھی بیٹی کا زید سےنکاح جائز نہیں ہے تاہم حلیمہ کی بیٹیوں کا (بشمول آمنہ کے) زید کےبھائیوں سے نکاح جائز ہے کیونکہ رضاعت سے دودھ پلانے والی کی تمام اولاد دودھ پینے والےکےرضاعی بہن بھائی بن جاتے ہیں البتہ دودھ پینے والے کےباقی حقیقی بہن بھائی دودھ پلانے والی کی اولادکےرضاعی بہن بھائی نہیں بنتے۔
رد المحتار (3/ 213)میں ہے:
(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب)
رد المحتار (3/ 217)میں ہے:
(وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر
فتاوى ہنديہ (1/ 343)میں ہے:
وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي وتحل أم أخيه وأم عمه وعمته وأم خاله وخالته من الرضاع هكذا في شرح الوقاية.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved