- فتوی نمبر: 32-394
- تاریخ: 09 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
مفتی صاحب مسئلہ یہ ہے کہ میت کی دو بیویاں ہیں اور میت کے مکانوں کا کرایہ 40000 ہے اور ملکیت 500000 برائے مہربانی شرعاً وضاحت فرمائیں کرایہ کی تقسیم اور ملکیت کی تقسیم کس طرح ہوگی؟
میت کی زوجہ اول زینب انکی اولاد کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔زید (شادی شدہ)2۔خالد (بیوی کو طلاق )3۔بکر (شادی شدہ)4۔عمر (شادی شدہ) 5۔خدیجہ (فوت)6۔عائشہ (غیر شادی شدہ)
میت کی دوسری بیوی کلثوم ان کی اولاد کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ضیاء (شادی شدہ)2۔ واجد (شادی شدہ)3۔رضوان (شادی شدہ) 4۔صہیب (شادی شدہ) 5۔سمیع (غیر شادی شدہ)6۔عبداللہ(غیر شادی شدہ)7۔عبدالرحمٰن(غیر شادی شدہ)8۔حفصہ (شادی شدہ)9۔فاطمہ (شادی شدہ)10۔مریم (شادی شدہ)11۔صفیہ (غیر شادی شدہ)
وضاحت مطلوب ہے: 1۔سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟2۔ میت کے والدین حیات ہیں یا فوت ہوچکے ہیں؟ اگر فوت ہوچکے ہیں تو کب فوت ہوئے؟ پہلے یا بعد میں؟3۔خدیجہ کب فوت ہوئی؟ والد سے پہلے یا بعد میں؟4۔خدیجہ شادی شدہ تھی یا غیر شادی شدہ؟2۔ 5 لاکھ ملکیت کس صورت میں ہیں؟ نقدی یا جائیداد یا کوئی سامان وغیرہ؟
جواب وضاحت: 1۔ دوست کا سوال ہے۔2۔ میت کے والدین میت سے پہلے فوت ہوچکے تھے۔3۔والد کے بعد فوت ہوئی۔4۔غیر شادی شدہ۔5۔ ملکیت 5 لاکھ ہی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں میت کی کل وراثت (کرائے اور ملکیت) کے 1728 حصے کیے جائیں گے جن میں سے میت کی زوجہ اول (زینب ) کو 117 حصے (6.77 فیصد) ، میت کی زوجہ ثانی (کلثوم ) کو 108 حصے (6.25 فیصد)، عائشہ کو 59 حصے (3.41 فیصد)، حفصہ ، فاطمہ ، مریم ، صفیہ کو 54 حصے (3.12 فیصد)، زید ، خالد ، بکر ، عمر کو 118 حصے (6.82 فیصد) اور ضیاء ، واجد ،رضوان ، صہیب ، سمیع ، عبداللہ، عبدالرحمٰن کو 108 حصے (6.25 فیصد) ملیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved