- فتوی نمبر: 26-33
- تاریخ: 09 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > کھانے پینے کی اشیاء
استفتاء
کیا بکرے کی اوجھڑی کھانا جائز ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بکرے کی اوجھڑی کھانا جائز ہے،کیونکہ حلال جانور کے سات اجزاء حرام ہیں اور اوجھڑی ان میں شامل نہیں۔
السنن الکبریٰ للبیہقی (ح:19700)میں ہے:
“عن مجاهد، قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكره من الشاة سبعا: الدم والمرار والذكر والأنثيين والحيا والغدة والمثانة “
ترجمہ:(تابعی) مجاہد ؒ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ بکری کے(بلکہ کسی بھی حلال جانور کے)سات اعضاء کھانے کو نا جائز فرماتے تھے یعنی خون اورپتہ اور آلہ تناسل اور خصیے(یعنی کپورے)اور جانور کی شرمگاہ اورغدود اور مثانہ ۔
امداد الفتاویٰ(4/104)میں ہے:
’’اوجھڑی کی حلّت اس لئے ہے کہ اس میں کوئی وجہ حرمت کی نہیں ، فقہاء نے اشیائے حرام کو شمار کردیا ہے، یہ ان کے علاوہ ہے، یہ شمار درمختار کے مسائل شتٰی میں مذکور ہے۔ والغدۃ، والخصیۃ والمثانۃ، والمرارۃ، والدم المسفوح، والذکر۔ اھ ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved