- فتوی نمبر: 26-57
- تاریخ: 14 جون 2026
- عنوانات: عبادات > طہارت > موزوں پر مسح کا بیان
استفتاء
کیا فرماتےہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جرابوں پر مسح کرنا کیسا ہے ؟
ترمذی شریف کی حدیث نمبر99 میں جرابوں پر مسح کا بیان آیا ہے اور لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ ؒنے زندگی کے آخرِ ایام میں جرابوں پر مسح پر رجوع کرلیا تھا اور کرکے بھی دکھایا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے بشرطیکہ وہ موٹی ہوں چنانچہ ترمذی شریف میں بھی جرابوں کے موٹا ہونے کا تذکرہ ہے۔ امام ابوحنیفہ ؒ پہلے خالی موٹی جرابوں پر مسح کے قائل نہیں تھے بعد میں قائل ہوگئے اور خود امام ترمذیؒ نے فرمایا ہےکہ فقہائے کرام حدیث کے معانی کو دیگر علماء سے زیادہ جانتے ہیں اور فقہائے کرام نے جرابوں کے موٹا ہونے کی تین شرطیں بیان کی ہیں۔
سننِ ترمذی (1/167) میں ہے:
قال أبو عيسى سمعت صالح بن محمد الترمذي قال سمعت أبا مقاتل السمرقندي يقول دخلت على أبي حنيفة في مرضه الذي مات فيه فدعا بماء فتوضأ وعليه جوربان فمسح عليهما ثم قال فعلت اليوم شيئا لم أكن أفعله مسحت على الجوربين وهما غير منعلين.
ترمذی شریف (506/1) میں ہے:
وكذلك قال الفقهاءُ، وهم اعلم بمعانى الحديث.
فتاوی شامی(271/1) میں ہے :
( أو جوربيه ) ولو من غزل أو شعر ( الثخينين ) بحيث يمشي فرسخا ويثبت على الساق بنفسه ولا يرى ما تحته ولا يشف.
بدائع الصنائع (83/1) میں ہے :
وأما المسح على الجوربين فإن كانا مجلدين أو منعلين يجزيه بلا خلاف عند أصحابنا وإن لم يكونا مجلدين ولا منعلين فإن كانا رقيقين يشفان الماء لا يجوز المسح عليهما بالإجماع وإن كانا ثخينين لا يجوز عند أبي حنيفة وعند أبي يوسف ومحمد يجوز وروي عن أبي حنيفة أنه رجع إلى قولهما في آخر عمره وذلك أنه مسح على جوربيه في مرضه ثم قال لعواده فعلت ما كنت أمنع الناس عنه فاستدلوا به على رجوعه.
عباراتِ بالا کا حاصل یہ ہے کہ سوتی اور اونی جرابیں جوثخین ہوں یا رقیق ہوں لیکن مجلد ہونے کی وجہ سے ثخین کے حکم میں ہوں ان پر مسح جائز ہے۔ثخین کا مطلب یہ ہے کہ ان کا کپڑا اس قدر موٹا اور مضبوط ہو کہ اس میں جوتے کے بغیر تین میل پیدل چلیں تو وہ پھٹے نہیں اور وہ پنڈلی پر بغیر کسی چیز کے باندھے قائم رہ سکے بشرطیکہ یہ قائم رہنا کپڑے کی تنگی اور چستی کی وجہ سے نہ ہو بلکہ موٹا ہونے کی وجہ سے ہو نیز یہ کہ وہ پانی کو جلدی سے جذب نہ کرے اور پانی اس میں سے نہ چھنے۔ جس جراب میں ان شرطوں میں سے کوئی شرط نہ پائی جائے وہ ثخین نہیں بلکہ رقیق (یعنی پتلی) ہے۔جرابیں اونی ہوں یا سوتی دونوں میں مسح جائز ہونے کے لیے مذکورہ شرائط ضروری ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved