• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے؟

استفتاء

“سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ اور جرابوں پر مسح: ابوحازم تابعی بیان کرتے ہیں: ”انه مسح علي الجوربين“ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے جرابوں پر مسح کیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ،ح:1990،وسندہ حسن)” اس کی وضاحت مطلوب ہے؟ کیا جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جرابوں پر مسح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ موٹی ہوں، چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ کے اسی باب میں حدیث نمبر:1976 میں ہے:

”عن سعيد بن المسيب و الحسن قالا يمسح علي الجوربين اذا كانا صفيقين“

ترجمہ: مشہور تابعی حضرت سعید بن مسیب اور حضرت حسن بصری  (رحمہمااللہ) فرماتے ہیں: جرابوں پر مسح اس وقت جائز ہے جب وہ موٹی ہوں ۔

اور حضرات فقہائے کرام حدیث کے معانی کو زیادہ جانتے ہیں جیسا کہ امام ترمذی نے (ابواب الجنائز، باب ماجاء فی غسل المیت، ح:909، کے تحت) فرمایا ہے ”وكذلك قال الفقهاء. وهم ‌أعلم ‌بمعاني ‌الحديث“ اور حضرات فقہائےکرام نے موٹی جرابوں کی تین شرطیں بیان کی ہیں (۱) ان کا کپڑا اس قدر موٹا اور مضبوط ہو کہ اس میں جوتے کے بغیر تین میل پیدل چلیں تو وہ پھٹے نہیں (۲) وہ پنڈلی پر بغیر کسی چیز کے باندھے قائم رہ سکے بشرطیکہ یہ قائم رہنا کپڑے کی تنگی اور چستی کی وجہ سے نہ ہو بلکہ موٹا ہونے کی وجہ سے ہو (۳) وہ پانی کو جلدی سے جذب نہ کرے اور پانی اس میں سے نہ چھنے۔

سنن الترمذی (ح:99۔1/ 167) میں ہے:

”يمسح على الجوربين وإن لم تكن نعلين إذا كانا ‌ثخينين“

درمختار مع ردالمحتار (1/ 269) میں ہے:

”(أو جوربيه) ولو من غزل أو شعر (الثخينين) بحيث ‌يمشي ‌فرسخا ويثبت على الساق ولا يرى ما تحته ولا يشف“

عنایہ علی الہدایہ (کتاب الطہارۃ،باب المسح علی الخفین،1/ 157) میں ہے:

”(صاحب الهداية) قال (ولا يجوز المسح على الجوربين عند أبي حنيفة رحمه الله إلا أن يكونا مجلدين أو منعلين وقالا: يجوز إذا كانا ثخينين لا يشفان) لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم مسح على جوربيه، ولأنه يمكنه المشي فيه إذا كان ثخينا، وهو أن يستمسك على الساق من غير أن يربط بشيء فأشبه الخف. وله أنه ليس في معنى الخف لأنه لا يمكن مواظبة المشي فيه إلا إذا كان منعلا وهو محمل الحديث، وعنه أنه رجع إلى قولهما وعليه الفتوى.

(قال البابرتی صاحب العنایة) المسح على الجوربين على ثلاثة أوجه: في وجه يجوز بالاتفاق وهو ما إذا كانا ثخينين منعلين، وفي وجه لا يجوز بالاتفاق وهو ألا يكونا ثخينين ولا منعلين، وفي وجه لا يجوز عند أبي حنيفة خلافا لصاحبيه وهو أن يكونا ثخينين غير منعلين.“

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved